وقف بل کی حمایت: ناراض لیڈروں کے جنتادل یو چھوڑنے کا سلسلہ جاری

n6589185161743765071468825d3c6015aef19ff2171b9b0295201584801f2314a4c5cfbba848101ba5e91e

وقف ترمیم بل پر بہار میں سیاسی ہلچل جاری ہے۔ اسمبلی انتخابات سے پہلے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی پارٹی کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔ جنتا دل یونائیٹڈ کا موقف بل کے حق میں ہونے کی وجہ سے پارٹی کے مسلم لیڈران ناراض ہو گئے ہیں۔اب تک چار رہنماؤں نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان میں اقلیتی سیل کے ریاستی سیکریٹری محمد شاہنواز ملک، ریاستی جنرل سیکریٹری محمد تبریز صدیقی علیگ، بھوجپور سے پارٹی رکن محمد دلشان راعین اور جے ڈی یو کے مشرقی چمپارن ضلع میڈیکل سیل کے ترجمان قاسم انصاری شامل ہیں۔ان رہنماؤں نے وقف ترمیم بل پر جے ڈی یو کے موقف کو لے کر ناراضگی ظاہر کی ہے اور کہا کہ پارٹی نے لاکھوں مسلمانوں کا اعتماد توڑ دیا ہے۔ اقلیتی سیل کے ریاستی سیکریٹری شاہنواز ملک نے اپنے استعفیٰ کے خط میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ہم جیسے لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کا پختہ یقین تھا کہ آپ سیکیولر نظریات کے علمبردار ہیں، لیکن اب ہمارا یقین ٹوٹ چکا ہے۔ وقف ترمیم ایکٹ 2024 پر جے ڈی یو کے موقف سے ہم سب کو گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ہم لوگ لوک سبھا میں مرکزی وزیر اور پارٹی کے سینئر لیڈر للن سنگھ کے رویے سے بھی آہت ہیں۔ انہوں نے جس طرح کا بیان دیا اور اس بل کی حمایت کی، اس سے پارٹی کو ووٹ دینے والے مسلمان انتہائی مغموم ہیں۔ یہ بل مسلمانوں کے خلاف ہے۔ ہم کسی بھی صورت میں اسے قبول نہیں کر سکتے ہیں۔ یہ بل آئین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اب مجھے افسوس ہو رہا ہے کہ ہم لوگوں نے اپنی زندگی کے کئی سال اس پارٹی کو دیے۔ اسی لیے میں اپنی مرضی سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔