تیسرے بچے کی پیدائش پر 30 ہزار چوتھے بچے کی 40 ہزار روپئے مالی امداد

چیف منسٹر آندھراپردیش این چندرا بابو نائیڈو نے آبادی اور خاندانی منصوبہ بندی کے متعلق ایک انتہائی اہم اور تاریخی پالیسی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب بچوں کو بوجھ نہیں بلکہ ر یاست کا اثاثہ سمجھا جائے گا۔ اس سلسلہ میں آندھراپردیش میں تیسرے بچے کی پیدائش پر 30 ہزار اور چوتھے بچے کی پیدائش پر 40 ہزار روپئے کی مالی امداد دی جائے گی جبکہ ماؤں کے احترام میں اماں وڈی اسکیم کے تحت 15 ہزار روپئے کی امداد پہلے ہی فراہم کی جارہی ہے۔ اگر سب کچھ منصوبہ کے مطابق رہا ہے تو ماؤں کو دی جانے والی امداد میں مزید اضافہ کرنے کا بھی وعدہ کیا۔ ضلع سریکاکولم کے نرسنا پیٹ کے دورے کے دوران چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو نے ایک پروگرام میں شرکت اور خطاب کرتے ہوئے بدلتے ہوئے خاندانی تصورات اور ریاستی ترقی کے ویژن پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ ایک وقت تھا جب ہم گرتی ہوئی معیشت اور وسائل کے تحفظ کیلئے عوام سے خاندانی منصوبہ بندی پر عمل کرنے کی اپیل کرتے تھے لیکن آج حالات بدل چکے ہیں۔ آج ہم کہتے ہیں بچے ہمارے معاشرے کی حقیقی دولت ہے۔ اس لئے تیسرے اور چوتھے بچے کی پیدائش پر حکومت مالی امداد فراہم کرے گی تاکہ خاندانوں پر معاشی بوجھ نہ پڑے اور انسانی وسائل کو فروغ ملے۔ چندرا بابو نائیڈو نے واضح کیا کہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش اندھراپردیش کو ایک غریبی سے پاک معاشرے کے طور پر دیکھنا ہے۔
