ملک کی فینانشیل فٹ ریاستوں میں اڈیشہ ، جھارکھنڈ ، اروناچل پردیش اور اتراکھنڈ شامل

ریاستوں کی مالی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے حکومتوں کی جانب سے وقتاً فوقتاً منصوبوں میں تبدیلی کی جاتی ہے۔ آمدنی میں ا ضافہ کے علاوہ قرضہ جات کا حصول اور فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات پر خرچ کے معاملہ میں بہت کم ریاستوں نے کامیابی کے ساتھ فینانشیل مینجمنٹ کو بہتر بنایا ہے۔ فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات پر عمل آوری کیلئے حکومتوں کو آمدنی میں اضافہ پر توجہ دینی پڑتی ہے۔ مالیاتی اداروں سے حاصل کردہ قرض کی واپسی اور اخراجات پر قابو پاتے ہوئے ریاست کی معیشت کو کمزور ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔ ملک کی تمام ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کی معاشی صورتحال پر سروے کیا گیا جس میں اس بات کا پتہ چلانے کی کوشش کی گئی کہ ملک کی وہ کونسی ریاستیں ہیں جو معاشی طور پر مستحکم اور فٹ تصور کی جاسکتی ہیں۔ اڈیشہ ، جھارکھنڈ ، اتراکھنڈ ، اروناچل پردیش اور گوا ایسی ریاستیں ہیں جنہوں نے معیشت کو مستحکم رکھنے میں کامیابی حاصل کی۔ ان ریاستوں کو معاشی طور پر فٹ ریاستیں تصور کیا جاسکتا ہے۔ اڈیشہ میں فینانشیل ڈسپلن کو 73.1 فیصد شمار کیا گیا جبکہ اروناچل پردیش میں 59.5 فیصد معاشی استحکام درج ہوا ہے۔ گوا میں 54.7 ، اتراکھنڈ 52.2 اور جھارکھنڈ میں 50.5 فیصد مالیاتی موقف بہتر پایا گیا۔ دوسرے درجہ میں وہ ریاستیں ہیں جو معاشی موقف کو بہتر بنانے کی مساعی کر رہی ہیں اور انہیں کسی قدر کامیابی ملی ہے۔ گجرات ، مہاراشٹرا ، کرناٹک ، تلنگانہ ، چھتیس گڑھ ، اترپردیش میں ریاستوں کا مالی موقف 40 تا 50 فیصد کے درمیان درج کیا گیا ہے۔ ملک کی جن ریاستوں میں مالی موقف ابتر ہے، ان میں پنجاب ، ہماچل پردیش، مغربی بنگال ، ناگا لینڈ ، منی پور ، کیرالا اور آندھراپردیش شامل ہیں۔ سروے کے مطابق ایسی ریاستیں جہاں نظم و نسق کی کارکردگی بہتر ہے وہاں مالی موقف اور آمدنی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔
