47 لاکھ ووٹرس کو نوٹس پر جواب دینے دوبارہ موقع ، الیکشن کمیشن کا اعلان

15pazr1

تلنگانہ میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظر ثانی (SIR-2026) کے تحت کارروائی تیز رفتار سے جاری ہے ۔ ریاستی چیف الیکٹورل آفیسر کے فراہم کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں شائع کردہ 2,64,87,213 کروڑ ووٹرس کی ڈرافٹ فہرست میں سے 92,88,164 غیر میاپنگ اور ناموں و عمر کی غلطیوں والے ووٹرس کی نشاندہی کی گئی تھی ، جنہیں نوٹس بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ ان میں سے اب تک 77.52 فیصد ووٹرس کو جاری کردی گئی ہے جبکہ مزید 20,87,153 لاکھ ووٹرس کو نوٹس بھیجنا باقی ہے ۔ نوٹس حاصل کرنے والے ووٹرس میں سے اب تک 25 فیصد ووٹرس الیکشن حکام کے سامنے حاضر ہوکر اپنا تصدیقی عمل مکمل کرچکے ہیں ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ نوٹس وصول کرنے کے باوجود انہیں سماعت کیلئے جو تاریخیں دی گئی تھی ان میں 47,55,427 ووٹرس اپنی ڈیڈ لائین پر الیکشن حکام کے سامنے حاضر نہیں ہوئے جس کی وجہ سے ان کی (Hearing Dates) ختم ہوچکی ہے ۔ اس کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کے بعد انتخابی حکام نے ان تمام ووٹرس کی دوبارہ سماعت کیلئے تاریخیں دوبارہ ترتیب (Reschedule) دیا جارہا ہے ۔ اسی ضمن میں ابھی تک 50,526 ووٹرس کو دوبارہ سماعت کیلئے نئی تاریخیں جاری کی گئی ہیں اور اس سے انہیں مطلع بھی کردیا گیا ہے ۔ ابھی تک ہوئی تصدیقی عمل میں 13,69,023 وورٹس کے تمام دستاویزی ثبوت اور اسناد جلے پائے گئے ہیں ، انہیں صرف قانونی طور پر درست قرار دینا باقی ہے ۔ انکوائری اور جانچ کے دوران جعلی یا غلط تصدیقی اسناد جمع کروانے والے 1524 ووٹرس کو نااہل قرار دیا گیا ہے ۔ ماباقی ووٹرس کا فیصلہ ہونا باقی ہے ۔ ووٹرس کے پورٹل پر اپ لوڈ کردہ دستاویزات اور سرٹیفکٹس کی اصلیت کی تصدیق کا اختیار کلکٹرس کو سونپا گیا ہے ۔ EROS ان دستاویزات کو تصدیق کیلئے کلکٹرس کے پاس بھیج رہے ہیں ۔ کلکٹرس نے اب تک 2,66,718 ووٹرس کے دستاویزات کی تصدیق مکمل کرلی ہے جبکہ 7,48,718 ووٹرس کی اسناد کا معائنہ ابھی باقی ہے ۔ قطعی منظوری کا اختیار متعلقہ اسمبلی حلقہ کے الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (REO) کے پاس ہے ۔ منظوری حاصل کرنے والے تمام نام 9 نومبر کو شائع ہونے والی فائنل ووٹرس لسٹ میں شامل کئے جائیں گے ۔ نااہل قرار دیئے گئے ووٹرس کا نام وجوہات کے ساتھ ا لگ فہرست میں شائع ہوگا ۔ متاثرہ افراد پہلے مرحلہ میں ضلع کلکٹر کے پاس اپیل کرسکیں گے ۔ اگر وہاں سے بھی درخواست مسترد ہوجائے تو وہ چیف الیکٹورل آفیسر کے پاس رجوع ہوسکتے ہیں ۔