تلنگانہ میں سرکاری ملازمین کیلئے پانچ یومی ہفتہ نافذ کرنے پر زور

تلنگانہ میں سرکاری ملازمین کی تنظیموں پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے چیف سیکریٹری حکومت تلنگانہ سے ملاقات کرتے ہوئے ایل ۔ نینو کے اثرات سے ریاست کو محفوظ رکھنے اور سرکاری دفاتر میں بجلی اور پانی کی بچت کو یقینی بنانے کے سلسلہ میں نمائندگی کرتے ہوئے تجویز پیش کی کہ ریاست میں 5دن کے ہفتہ کو منظوری دی جائے تاکہ تمام سرکاری دفاتر ‘ اسکول ‘ محکمہ جات اور سیکریٹریٹ ہفتہ میں 5 یوم کام کرتے ہوئے بجلی اور پانی کی قلت سے نمٹنے میں تعاون کرسکیں۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی آف تلنگانہ ایمپلائز‘ گزیٹیڈ آفیسر س‘ ٹیچرس‘ ورکرس اینڈ پنشنرس نے حکومت سے کی گئی نمائندگی میں بتایا کہ اگر حکومت کی جانب سے سرکاری دفاتر کے اوقات کار میں معمولی تبدیلی کے ساتھ 5دن کے ہفتہ کا فیصلہ کرتے ہوئے ہفتہ اور اتوار کو تعطیل کا اعلان کرتی ہے تو ملازمین و سرکاری دفاتر کے اوقات کار میں ہفتہ واری جو گھنٹے ہوا کرتے ہیں ان کی بھی پابجائی ہوجائے گی اورساتھ ہی سرکاری دفاتر و اسکولوں کے علاوہ محکمہ جات میں بجلی اور پانی کی بچت کو یقینی بنایا جاسکے گا۔صدرنشین ٹی این جی اوز مسٹر ایم جگدیشوراور جنرل سیکریٹری ٹی این جی اوز مسٹر ای سرینواس راؤ نے چیف سیکریٹری کو روانہ کئے گئے مکتوب میں کہاکہ ریاستی حکومت کو سیکریٹریٹ کے علاوہ تمام سرکاری دفاتر کو مرکزی اداروں کے طرز پر فوری 5یوم کے ہفتہ کا اعلان کرنا چاہئے تاکہ ریاست کے علاوہ دونوں شہروں میں موجود سرکاری دفاتر میں بجلی اور پانی کی کھپت کو محدود کیا جاسکے۔انہو ںنے اپنے مکتوب میں بتایا کہ ریاستی حکومت بالخصوص چیف منسٹر اے ریونت ریڈی عوام سے پانی کے استعمال میں احتیاط کے علاوہ برقی کی کھپت کو کم کرنے کے اقدامات کی اپیلیں کر رہے ہیں اور مرکزی حکومت کی جانب سے برقی پر انحصار کے بجائے قابل تجدید توانائی کے استعمال کو یقینی بنانے کے اقدامات پر توجہ دی جانے لگی ہے ۔ ملازمین کی تنظیموں کے نمائندوں کی جانب سے حکومت کو روانہ کئے گئے مکتوب میں کہا گیا ہے کہ اگر سرکاری دفاتر کے اوقات کار جو کہ 10 بجے صبح تا 5:00 بجے شام ہیں اس کے اعتبار سے 6دن کے ہفتہ میں سرکاری دفاتر اور ملازمین 39 گھنٹے خدمات انجام دے رہے ہیں اگر حکومت کی جانب سے سرکاری دفاتر کے اوقات کار میں تبدیلی لاتے ہوئے انہیں صبح 10بجے تا 5:30 بجے شام 5یوم کے ہفتہ کے مطابق خدمات فراہم کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے تو ایسی صورت میں سرکاری ملازمین ہفتہ میں 37 گھنٹے سے زائد کام کرسکتے ہیں اور ہفتہ واری اساس پر دیکھا جائے تو اس میں محض دیڑھ گھنٹے کی کمی ہوگی لیکن اس کے کافی فائدے حاصل ہوں گے۔
