شہر میں ورک فرم ہوم کلچر کی واپسی ‘ پانی کی قلت کا اثر

دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں پانی کی قلت سے نمٹنے متعدد اقدامات کئے جانے لگے ہیں اور شہر کے نواحی علاقوں بالخصوص آئی ٹی مرکز سمجھے جانے والے علاقوں کو جلد سنسان بنانے کے اقدامات کا خدشہ ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ آئی ٹی کے ذمہ داروں اور آئی ٹی کمپنیوں میں آئی ٹی ملازمین اور عملہ کو ’گھر سے کام‘ کی سہولت فراہم کرنے مذاکرات کا آغاز ہوچکا ہے اور کئی دور کی بات چیت کے بعد آئی ٹی کمپنیوں کے ذمہ داروں نے ابتدائی طور پر 25 فیصد عملہ کو ’گھر سے کام ‘ کی سہولت فراہم کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ ’گھر سے کام‘ کی اجازت کی فراہمی ابتدائی طور پر 25 فیصد عملہ کو ہوگی جس میں حالات کے اعتبار سے بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں گچی باؤلی ‘ مادھا پور‘ کوکٹ پلی ‘ ہائی ٹیک سٹی ‘ کونڈا پور‘اور اطراف کے علاقو ںمیں چلائے جانے والی خانگی اسکولوں کے اوقات کار میں کمی کے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ذرائع کے مطابق شہر کے نواحی علاقوں میں جہاں ہمہ منزلہ عمارتیں ورہائشی اپارٹمنٹس موجود ہیں ان پر زیر زمین سطح آب میں بھی مسلسل گراوٹ آنے لگی ہے جس کے نتیجہ میں بورویلس سے پانی کا حصول دشوار ہونے لگا ہے ۔ علاوہ ازیں شہر ٹینکرس کی سربراہی کی قیمتوں میں بھی بے تحاشہ اضافہ کے خدشات کے تحت رہائشی اسکولوں ‘ خانگی اسکولوں اور پی جی ہاسٹلس کی خدمات کو بھی محدود کیا جانے لگا ہے۔ بتایا گیا کہ ان علاقو ںمیں کئی خانگی اسکولوں کے ذمہ داروں نے اپنی کلاسس کو آن لائن کردیا ہے اور اسکولوں کو بند کردیا گیا ہے لیکن جو اسکول چلائے جا رہے ہیں ان کے اوقات کو کم کرنے پر بھی غور کیا جار ہاہے۔ محکمہ انفارمیشن ٹکنالوجی کے عہدیداروں کے مطابق شہر حیدرآباد کے اطراف کے علاقوں میں خدمات انجام دینے والوں کو مکمل ’گھر سے کام‘ کی سہولت فراہم کرنے کہا جا رہاہے لیکن کمپنی ذمہ داروں کی جانب سے ’لاک ڈاؤن‘ کے طرز پر مکمل ’گھر سے کام‘ کی اجازت دینے سے انکار کرکے یہ استدلال پیش کیا جار ہاہے کہ ’گھر سے کام‘ کی صورت میں کمپنی کی سرگرمیاں اور کام متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
