ریستوراں اور ہوٹلوں میں کھانے کے شائقین پر مزید بوجھ میں اضافہ

TOP_9-3

ریستوراں اور ہوٹلوں میں کھانے کے شوقین افراد کو اب چوکنا ہوجانا چاہئے کیونکہ ریستوراں اور ہوٹلوں میں کھانے کی اشیاء کی قیمتوں میں ریکارڈ کیا جانے والا اضافہ ان کی جیب پر بھاری بوجھ ڈالنے کا سبب بن سکتا ہے۔مہنگائی میں ریکارڈ کئے جانے والے اضافہ کا اثرریستوراں اور ہوٹلوں کے کھانوں کی قیمتوں پر بھی پڑنے لگا ہے‘ ریستوراں اور ہوٹلوں کے مینو میں جہاں قیمتیں درج ہوا کرتی ہیں اب ان پر نئے اسٹیکرس لگائے جانے لگے ہیں اور کہاجارہاہے کہ بار بار نئے مینو کی اشاعت بھی ریستوراں اور ہوٹلوں کے لئے گراں ہونے لگی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کی کئی ریستوراں اور ہوٹلوں کے ذمہ داروں نے بتایا کہ گذشتہ 6ماہ کے دوران ویجیٹیرئین ہوٹلوں میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں دو مرتبہ اضافہ ہوچکا ہے اور کئی نان ویجیٹیرئین ریستوراں و ہوٹلوں میں ایک مرتبہ اضافہ کیا جاچکا ہے لیکن گذشتہ دو ہفتوں کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ریکارڈ کئے جانے والے قیمتوں میں اضافہ کے نتیجہ میں دوبارہ اضافہ کے متعلق غور کرنا پڑرہا ہے جو کہ عوام پر راست بوجھ ہوگا۔ بتایاجاتاہے کہ ایران ۔امریکہ جنگ اور آبنائے ہرمز کو بند کئے جانے کے بعد گیاس کی قلت کے نتیجہ میں پیداہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے 9 ماہ قبل ریستوراں اور ہوٹلوں نے اپنے مینو کارڈ تبدیل کئے تھے لیکن اس کے چند ماہ بعد اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ ہی دوبارہ قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا تھا لیکن اب جو صورتحال پیدا ہونے لگی ہے وہ انتہائی تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔ چاول ‘ پیاز‘ تیل ‘ دال اور ترکاریوںکی قیمتوں میں ریکارڈ کئے جانے والے بے تحاشہ اضافہ کے نتیجہ میں ریستوراں مالکین کو مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔بتایاجاتاہے کہ دونوں شہروں میں چلائی جانے والی سرکردہ ریستوراں اور ہوٹلوں کے مالکین نے اپنے مسائل کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے اور کہا جارہاہے کہ جلد ہی وہ اپنے مینو کارڈس پر نئی قیمتوں کے اسٹیکرس چسپاں کرنے کے متعلق اہم فیصلہ کرسکتے ہیں کیونکہ انہیں نہ صرف مہنگائی کے مسائل کا سامنا ہے بلکہ اخراجات میں ریکارڈ کئے جانے والے مسلسل اضافہ اور پانی کی قلت کے سبب پیدا ہونے والے مسائل بھی پریشان کر رہے ہیں۔