انتہائی مطلوب ماؤیسٹ کارکن پدماوتی نے ہتھیار ڈال دئے

13last_3

پولیس کو انتہائی مطلوب ماویسٹ پارٹی کی سنٹرل کمیٹی رکن پی پدماوتی عرف سجاتا نے تلنگانہ پولیس کے روبرو ہتھیار ڈال دئے ۔ 43 سال سے ماویسٹ تنظیم میں سرگرم سجاتا کے سر پر 25 لاکھ نقد روپئے کا انعام بھی رکھا گیا تھا۔ تفصیل بتاتے ہوئے ڈائرکٹر جنرل پولیس مسٹر جتیندر نے بتایا کہ سجاتا ماویسٹ پارٹی کی سرگرم و سینئر لیڈر ہے جس کے خلاف سینکڑوں مقدمات مختلف ریاستوں میں درج کئے گئے۔ سجاتا ماویسٹ پارٹی کی سنٹرل کمیٹی رکن کے علاوہ ساوتھ زونل بیورو کے سکریٹریٹ کی بھی رکن ہے۔ 62 سالہ سجاتا ماویسٹ پارٹی کے سینئر لیڈر ایم کوٹیشور راؤ عرف کشن جی کی بیوی ہے۔ کشن جی کو پولیس نے بنگال، جھارکھنڈ سرحد پر سال 2011ء میں انکاونٹر میں ہلاک کردیا تھا۔ انٹرمیڈیٹ کی تعلیم کے دوران سجاتا رشتہ کے بھائی پٹیل سدھاکر ریڈی سے متاثر ہوکر پیپلز وار گروپ میں شامل ہوئی تھی اور ماویسٹ پارٹی میں کئی عہدوں پر سرگرمیاں جاری رکھی تھی۔ مسٹر جتیندر نے میڈیا کو بتایا کہ خرابی صحت کے باعث مئی 2025ء میں سجاتا نے ماویسٹ پارٹی ترک کرکے سماجی دھارے میں شامل ہونے کا ارادہ ظاہر کیا جس پر تلنگانہ حکومت نے اس کی راہ ہموار کرکے آج اس کے سر پر رکھا گیا 25 لاکھ روپئے کا انعام ڈیمانڈ ڈرافٹ کی شکل میں اسے حوالے کیا گیا ۔ڈائرکٹر جنرل (انٹلیجنس) مسٹر بی شیودھر ریڈی نے بتایا کہ سجاتا نے 43 طویل عرصہ میں ماویسٹ پارٹی میں سرگرم رہنے کے بعد سماجی دھارے میں شمولیت کا ارادہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ پولیس کی یہ پالیسی ہیکہ انڈرگراونڈ ماویسٹ کے ارکان کو بحال کرنے خصوصی توجہ دی گئی جس کے تحت جملہ 404 ماویسٹ ارکان جس میں مختلف عہدہ کے ماویسٹ لیڈر شامل ہیں، نے سال 2025ء میں پولیس کے روبرو ہتھیار ڈال کر سماجی دھارا میں شامل ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے 78 ماویسٹ ارکان روپوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ علاقہ میں ماویسٹ پارٹی کے 73 سرگرم ارکان ہونے کی اطلاع ہے جس میں 62 افراد کا بیرون ریاست سے تعلق ہے۔ ڈی جی پی مسٹر جتیندر نے روپوش ماویسٹ کیڈر سے اپیل کی ہیکہ وہ اپنی سرگرمیوں کو ترک کرکے سماجی دھارے میں شامل ہوجائیں چونکہ تلنگانہ پولیس کی جانب سے ان کی بحالی کیلئے کئی اسکیمات رکھی گئی ہیں جس میں ان کی فلاح و بہبود بھی شامل ہیں۔