آر ٹی اے سے خانگی بسوں کی جانچ پڑتال کا آغاز

26last_2

کرنول کے قریب جمعہ کو پیش آئے حادثہ کے بعد آر ٹی اے حکام نے ریاست بھر میں بسوں کا معائنہ شروع کردیا۔ خانگی بسوں کے اکثر حادثات کی وجہ کچھ آر ٹی اے حکام کی لاپرواہی اور ٹرانسپورٹ آپریٹرس سے رشوت کی بے تحاشہ وصولی بتائی جاتی ہے۔ بعض اعلیٰ حکام مبینہ طور پر خانگی آپریٹرس سے رشوت لینے کے لئے موٹر وہیکل انسپکٹرس کے لئے ماہانہ اہداف طے کرتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عمل کی وجہ سے گاڑیوں کے معائنہ میں سمجھوتہ کیا جاتا ہے۔ فٹنس سرٹیفکٹ کے غلط ہونے اور ریگولیٹری نگرانی میں عام خرابی ہوتی ہے۔ ایک حالیہ معاملہ میں وردھنا پیٹ کے ایک موٹر وہیکل انسپکٹر کو ایک گینگ کی نقالی کرنے والے اے سی بی کے اہلکاروں نے دھوکہ دیا جس نے مامول جمع کرنے میں اس کے ملوث ہونے کی تحقیقات کے بہانے اس سے 12 لاکھ روپئے رقم وصول کی۔ یہ محسوس کرتے ہوئے کہ اسے دھوکہ دیا گیا۔ ایم وی آئی نے بعد میں پولیس میں شکایت درج کرائی۔ پرائیوٹ ٹراویلس وکٹیمز اسوسی ایشن صدر سدھاکر نے الزام لگایا کہ آپریٹرس نے ایک طاقتور مافیا تشکیل دی ہے جو ہر ماہ آر ٹی اے اور دیگر عہدیداروں کو تقریباً 3 کروڑ روپئے کی پیشکش کرتے ہیں جبکہ وہ ایک ہزار کروڑ روپئے کماتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ خانگی بسوں کی کمپنیوں کے آپریٹرس ٹی جی ایس آر ٹی سی کے منافع کو بُری طرح متاثر کررہے ہیں۔ سدھاکر نے بتایا کہ پالم سانحہ میں بس میں آگ لگنے کے بعد 45 مسافروں کی موت ہوگئی تھی اور حالیہ کرنول حادثہ میں 21 افراد کی جانیں چلی گئیں۔ دونوں واقعات آر ٹی اے کی لاپرواہی کا نتیجہ بتایا گیا۔ باقاعدہ طور پر کوئی جانچ نہیں ہوئی جس کا کوئی مناسب ریکارڈ نہیں اور بہت سے آپریٹرس ایک ہی رجسٹریشن نمبر کے تحت ایک سے زیادہ بسیں چلاتے ہیں۔ ایک ہی رجسٹریشن نمبر والی بس کو وجئے واڑہ اور حیدرآباد دونوں جگہوں سے ایک ہی وقت میں چلتے ہوئے دیکھا جارہا ہے جس پر حکام اپنی آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔