خواتین تحفظات بل پر بی جے پی کا دوغلا چہرہ بے نقاب : کے ٹی آر

بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے خواتین تحفظات بل کے معاملے میں بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کا ’’دوغلا چہرہ‘‘ عوام بالخصوص خواتین کے سامنے آچکا ہے۔ پارلیمنٹ میں بل کی ناکامی پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کے ٹی آر نے الزام لگایا کہ بی جے پی حقیقی معنوں میں خواتین کو بااختیار بنانے میں سنجیدہ نہیں ہے اور محض صرف سیاسی فائدے کیلئے اس مسئلہ کو استعمال کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے خواتین کے تحفظات سے متعلق اہم مسئلہ کو ’’گندی سیاست‘‘ کی نذر کردیا ہے جس کے باعث ملک کی خواتین کو ان کے جائز حق فوری طور پر حاصل نہیں ہوپائے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ بی آر ایس کے بشمول کئی سیاسی جماعتوں نے اس بل کی متفقہ طور پر حمایت کی تھی لیکن حکومت نے جان بوجھ کر حدبندی کی شرط شامل کرکے اس کے نفاذ میں رکاوٹیں کھڑی کردی۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے کہا کہ خواتین کے حقوق کو حلقہ بندیوں جیسے پیچیدہ عمل سے جوڑنا دراصل ان کے حقوق پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔ اگر مودی حکومت خواتین تحفظات کیلئے مخلص ہوتی تو موجودہ 543 والی لوک سبھا میں خواتین کو ریزرویشن دے کر اسے فوری نافذ کیا جاسکتا تھا۔ کے ٹی آر نے جنوبی ہند کے خدشات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حدبندی کے ممکنہ اثرات کو نظرانداز کرنا ایک سنگین غلطی ہے اور اس ضد کی وجہ سے ایک تاریخی موقع ضائع ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ بی جے پی کو ایسی جماعت کے طور پر یاد رکھے گی جس نے خواتین کو محض انتخابی نعرہ بنادیا اور بعد میں انہیں نظرانداز کردیا۔ اگر مودی حکومت خواتین بل کیلئے واقعی سنجیدہ ہے تو حدبندی کی شرط کے بغیر نیا بل پیش کیا جائے اور اسے آئندہ انتخابات سے ہی نافذ کیا جائے۔
