ایران کی تجاویز ہنوز شک و شبہات کے دائرہ میں

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی امن تجویز کا جائزہ لے رہے ہیں، مگر اسے تسلیم کرنے کے امکان پر شک کا اظہار بھی کیا ہے۔دوسری جانب ایک اعلیٰ ایرانی فوجی افسر نے اشارہ دیا ہے کہ ’لڑائی دوبارہ شروع ہونے کا امکان‘ موجود ہے۔صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر لکھا کہ ’جلد ہی ایران کی جانب سے بھجوائے گئے پلان کا جائزہ لینے والا ہوں، مگر میرا نہیں خیال کہ یہ قبول کیے جانے کے قابل ہے اور انہوں نے ابھی تک اس کی مناسب قیمت ادا نہیں کی جو انہوں نے 47 برس کے دوران انسانیت اور دنیا کے ساتھ کیا ہے۔‘ہفتہ کو فلوریڈ کے ریسٹ بیچ پر میامی کے لیے جہاز میں سوار ہونے سے قبل جب صدر ٹرمپ سے ایران کی جانب سے آنے والی تجویز کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں ایران کے معاہدے کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے تاہم ابھی حتمی عبارت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔انہوں نے ایران کو خبردار بھی کیا کہ اگر اس نے غلط رویہ اختیار کیا تو دوبارہ حملے شروع ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔ایک سینیئر ایرانی اہلکار نے ہفتہ کو کہا تھا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے مسترد کی جانے والی تجویز کو مان لیا جائے تو آبنائے ہرمز کے راستے جہاز رانی کھل جائے گی اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی بھی ختم ہو جائے گی جبکہ جوہری پروگرام پر بات چیت بعد میں ہو سکتی ہے۔اس سوال کہ ’ایران پر دوبارہ حملے شروع کیے جا سکتے ہیں؟‘ کے جواب میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میں یہ نہیں کہنا چاہتا میرا مطلب ہے کہ یہ میں کسی رپورٹر کو نہیں بتا سکتا۔‘تاہم آگے انہوں نے کہا کہ ’اگر وہ (ایرانی) برا رویہ اختیار کرتے ہیں تو ہم ان کو دیکھ لیں گے، یہ ایک ایسا امکان ہے جو ہو بھی سکتا ہے۔‘صدر ٹرمپ کے اس بیان سے قبل ہفتہ کو ہی ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا تھا کہ ’یہ اب امریکہ کے ہاتھ میں ہے کہ وہ سفارت کاری کا راستہ اختیار کرے یا محاذ آرائی جاری رکھے۔‘ان کے مطابق ’ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے دونوں راستوں کے لیے تیار ہے۔
‘اس سے قبل ایک سینیئر ایرانی فوجی افسر نے کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ لڑائی ’ممکن‘ ہے، جبکہ اس سے چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی نئی مذاکراتی پیشکش پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایران نے نئی تجاویز پر مشتمل مسودہ جمعرات کی شام ثالث پاکستان کے حوالے کیا تھا تاہم اس کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائی گئی تھیں۔اس کے بعد صدر ٹرمپ نے جمعے کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس وقت میں ان کی پیشکش سے مطمئن نہیں ہوں،‘ اور مذاکرات میں تعطل کی وجہ ایران کی قیادت کے اندر ’شدید اختلافات‘ کو قرار دیا تھا۔خیال رہے 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے سے شروع ہونے والی جنگ تقریباً پانچ ہفتے بعد اس جنگ بندی تک پہنچی تھی جس کے لیے پاکستان نے کردار ادا کیا تھا، اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کا ایک دور ہوا جو کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکا تھا، اس کے بعد دوسرا دور بھی طے ہوا تھا تاہم وہ منعقد نہیں ہو سکا۔اس وقت ایک طرف آبنائے ہرمز کی بندش جاری ہے تو دوسری جانب امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے جس سے عالمی طور پر تیل کے بہاؤ میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں اور ایندھن کی قیمتیں تیزی سے اوپر جا رہی ہیں۔
