حیدرآباد کو عالمی شہر کے طور پر ترقی، موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ

چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ملکاجگری میونسپل کارپوریشن کے تحت اپل بھگایت علاقہ میں 1511 کروڑ کے ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس موقع پر ریاستی وزراء سریدھر بابو، دامودر راج نرسمہا، حکومت کے مشیر برائے بی سی امور وی ہنمنت راؤ، ارکان راجیہ سبھا وی نریندر ریڈی، انیل کمار یادو، بھونگیر کے رکن پارلیمنٹ کرن کمار ریڈی، گورنمنٹ وہپ ادنکی دیاکر، ارکان اسمبلی لکشما ریڈی، مال ریڈی رنگاریڈی اور سری گنیش موجود تھے۔ 98 کروڑ کے سرمایہ سے 10 ایکر اراضی پر ملکاجگری میونسپل کارپوریشن کی عمارت تعمیر کی جائے گی۔ اے او سی سنٹر میں متبادل سڑکوں کی تعمیر کے لئے 960 کروڑ مختص کئے گئے ہیں۔ 6 لائن پر مشتمل فلائی اوور کی تعمیر پر 416 کروڑ خرچ کئے جائیں گے۔ اس موقع پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے خواتین کی کثیر تعداد میں شرکت پر مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ خواتین کے دعاؤں کے نتیجہ میں وہ ضلع پریشد رکن سے چیف منسٹر کے عہدہ تک پہنچے ہیں۔ کوڑنگل میں شکست کے بعد ملکاجگری سے رکن پارلیمنٹ کے طور پر انتخاب میں خواتین کی تائید کا اہم رول ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکاجگری پارلیمانی حلقہ منی انڈیا کے مانند ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق بی آر ایس حکومت نے ملکاجگری کی ترقی پر توجہ نہیں دی۔ تلنگانہ رائزنگ 2047 ویژن کے تحت ریاست کو ترقی دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ ندی کی صفائی اور اسے خوبصورت بنانے کے مقصد سے پراجکٹ تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیور علاقہ میں 3 نئے کارپوریشن قائم کئے گئے تاکہ ترقیاتی کام انجام دیئے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ 3 علیحدہ کارپوریشنوں کے قیام کا مقصد سیاسی مفادات نہیں بلکہ انتظامی سہولت اور بہتر حکمرانی کو یقینی بنانا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ سیاست سے بالاتر ہوکر ملکاجگری کی ترقی کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس ارکان اسمبلی کے حلقہ جات میں بھی ترقیاتی کاموں کو منظوری دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جب گجرات میں سابرمتی، اترپردیش میں گنگاندی اور دہلی میں یمنی ندی کو ترقی دی جاسکتی ہے تو پھر موسیٰ ندی کی صفائی اور ترقی کی مخالفت کیوں؟ انہوں نے کہا کہ 55 کیلو میٹر طویل موسیٰ ندی کو عالمی معیار کے مطابق ترقی دی جائے گی۔ سیاحتی مرکز کے قیام سے نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ آلودگی کا خاتمہ ہوگا اور اراضیات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ ندی کے کنارے متاثر ہونے والے خاندانوں کو مکانات اور تعلیم فراہم کی جائے گی تاہم بعض افراد رکاوٹیں پیدا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں دو پراجکٹس کے توسیعی منصوبے میں رکاوٹ پیدا کی جارہی ہے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ گزشتہ ڈھائی برسوں میں ریجنل رنگ روڈ کے لئے وہ 50 مرتبہ نئی دہلی میں وزیر اعظم سے ملاقات کرچکے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ترقیاتی کاموں کی مخالفت میں مرکزی وزیر کشن ریڈی بی آر ایس کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر وہ شہر کی ترقی کے لئے اقدامات کررہے ہیں۔ تمام سیاسی پارٹیوں کو شہر کی ترقی کے لئے متحد ہونا چاہئے۔
