مہنگائی کی شرح میں اضافہ ، رہائشی اخراجات میں مہاراشٹرا سرفہرست

ملک میں مہنگائی کی بڑھتی شرح میں عام آدمی کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ حالیہ چند برسوں میں مہنگائی میں کمی کے بجائے اضافہ درج کیا گیا ہے اور پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ نے غریب اور متوسط طبقات کے ماہانہ مالیاتی سسٹم کو درہم برہم کردیا ہے۔ مہنگائی کا اثر زندگی کے لازمی شعبہ جات پر پڑا جس کے نتیجہ میں کئی ریاستوں میں روز مرہ کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ صورتحال میں ریاستوں میں زندگی گزارنے کیلئے درکار اخراجات پر سروے کیا گیا جس میں مہاراشٹرا ملک میں سب سے مہنگی ریاست قرار پائی ہے۔ ایک عام آدمی کیلئے مہاراشٹرا میں ایک ماہ کے اوسط اخراجات 52392 روپئے درج کئے گئے۔ مہنگی ریاستوں کے معاملہ میں دہلی ، گجرات ، کرناٹک اور تلنگانہ نے بھی اپنی جگہ بنائی ہے۔ مذکورہ ریاستوں میں رہائش ، ٹرانسپورٹیشن ، غذا اور دیگر ضروریات دن بہ دن مہنگی ہوتی جارہی ہے۔ ایسی ریاستیں جہاں تیزی سے صنعتی ترقی اور شہری علاقوں میں توسیع ہوئی ہے، وہاں رہائشی اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ دہلی میں ایک ماہ کے رہائشی اخراجات 47124 روپئے درج کئے گئے جبکہ گجرات 46453 روپئے ، کرناٹک 41442 روپئے اور تلنگانہ میں ایک ماہ کے اوسط اخراجات 41664 روپئے درج کئے گئے۔ صنعتی ترقی کے نتیجہ میں دیگر علاقوں سے عوام بالخصوص غیر منظم ورکرس کے نقل مقام میں اضافہ کے سبب ریاستوں میں اوسط اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ مغربی ایشیاء میں جنگ کی صورتحال کے سبب پٹرول ، ڈیزل اور پکوان گیس کے علاوہ کمرشیل گیس ، سلینڈرس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس کا راست اثر عام آدمی کے اخراجات پر پڑا ہے۔
