میناکشی نٹراجن کو تلنگانہ سے راجیہ سبھا کیلئے نامزد کرنے ہائی کمان کا منصوبہ

اے آئی سی سی انچارج تلنگانہ میناکشی نٹراجن کو راجیہ سبھا کیلئے نامزد کرنے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد کانگریس ہائی کمان نے نئی حکمت عملی طئے کرنے کیلئے مشاورت شروع کردی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق پارٹی ہائی کمان نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو ہدایت دی ہے کہ وہ تلنگانہ سے میناکشی نٹراجن کو راجیہ سبھا کیلئے نامزد کرنے کے طریقہ کار کا تعین کریں۔ تلنگانہ میں فی الوقت راجیہ سبھا کی کوئی نشست خالی نہیں ہے، ایسے میں میناکشی نٹراجن کو راجیہ سبھا کیلئے نامزد کرنے کیلئے کسی موجودہ رکن کا استعفیٰ حاصل کرنا ہوگا۔ مدھیہ پردیش میں میناکشی نٹراجن کے پرچہ نامزدگی کے مسترد کئے جانے کے پس پردہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے بعض قائدین کے ملوث ہونے کے شبہات ظاہر کئے جارہے ہیں۔ بی آر ایس نے میناکشی نٹراجن کی شکست کیلئے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ حکومت اور تلنگانہ کانگریس پارٹی پر منفی اثرات کو روکنے کیلئے میناکشی نٹراجن کو تلنگانہ سے راجیہ سبھا کیلئے نامزد کرنے کی حکمت عملی طئے کی جارہی ہے۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کے حالیہ دورہ دہلی کے موقع پر ہائی کمان نے یہ تجویز پیش کی جس پر ریونت ریڈی اپنے بااعتماد ساتھیوں سے مشاورت کر رہے ہیں۔ راجیہ سبھا کے جن ارکان کے استعفیٰ پر غور کیا جارہا ہے ، ان میں وی نریندر ریڈی اور انیل کمار یادو شامل ہیں۔ ان دو میں سے کسی ایک کے استعفیٰ کے بعد میناکشی نٹراجن راجیہ سبھا کیلئے تلنگانہ سے بلا مقابلہ منتخب ہوسکتی ہیں۔ پارٹی ہائی کمان نے نٹراجن کی شکست کو وقار کا مسئلہ بناتے ہوئے تلنگانہ سے انہیں راجیہ سبھا بھیجنے کی تجویز پیش کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وی نریندر ریڈی چونکہ چیف منسٹر کے بااعتماد ساتھی ہیں، اور انہیں چند ماہ قبل ہی راجیہ سبھا کیلئے منتخب کیا گیا، ان کے استعفیٰ کے امکانات کم ہیں۔ بجائے ان کے انیل کمار یادو کو راجیہ سبھی کی رکنیت سے استعفیٰ کی ترغیب دی جارہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کے بعد انیل کمار یادو کو میئر کے عہدہ پر فائز کرنے کا منصوبہ ہے ۔ انیل یادو کو میئر کے عہدہ کی پیشکش کی جارہی ہے۔ تلنگانہ سے راجیہ سبھا کے دیگر ارکان میں رینوکا چودھری اور ابھیشک منو سنگھوی شامل ہیں لیکن ان دونوں کے استعفیٰ کے امکانات موہوم ہیں۔ ایسے میں پارٹی ہائی کمان نریندر ریڈی اور انیل یادو میں کسی ایک کے نام پر مہر لگائے گا تاکہ میناکشی نٹراجن کو راجیہ سبھا بھیجا جاسکے۔ پارٹی حلقوں میں استعفیٰ کے مسئلہ پر متضاد رائے پائی جاتی ہے۔ چیف منسٹر کے مخالف گروپ کی جانب سے وی نریندر ریڈی کے استعفیٰ کی تائید کی جارہی ہے جبکہ چیف منسٹر کیمپ انیل کمار یادو کے استعفیٰ کے حق میں ہیں۔ یہ دونوں اگرچہ چیف منسٹر کے قریبی مانے جاتے ہیں لیکن انیل یادو کے استعفیٰ کی صورت میں پسماندہ طبقات سے ناانصافی کی شکایت کی جاسکتی ہے۔ پرچہ نامزدگی کے مسترد کئے جانے میں تلنگانہ قائدین کے ملوث ہونے کے الزامات کا خمیازہ تلنگانہ حکومت کو بھگتنا پڑسکتا ہے۔ امکان ہے کہ جلد ہی اس بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
