برطانیہ میں فلسطین ایکشن پر پابندی برقرار، عدالتِ اپیل میں حکومتی فیصلہ کی حمایت

TOP_12-9

برطانیہ کی عدالتِ اپیل نے فلسطین کے حامی گروپ ’’فلسطین ایکشن‘‘ پر عائد پابندی کو برقرار رکھتے ہوئے حکومت کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ تنظیم کو کالعدم قرار دینے کا حکومتی اقدام قانونی اور متناسب تھا۔ فلسطین ایکشن، جو اسرائیل سے منسلک دفاعی کمپنیوں خصوصاً ایل بٹ سسٹمز کے خلاف احتجاجی کارروائیوں کے باعث شہرت رکھتی ہے، گزشتہ سال انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت ممنوعہ تنظیم قرار دی گئی تھی۔ پابندی کے بعد تنظیم کی رکنیت، حمایت یا اس کے حق میں سرگرمیوں کو جرم قرار دے دیا گیا، جس پر دہشت گردی کے قوانین کے تحت 14 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔اس سے قبل لندن ہائی کورٹ نے تنظیم کی شریک بانی ہدا عموری کی درخواست پر فیصلہ دیا تھا کہ پابندی اظہارِ رائے کی آزادی میں غیر قانونی مداخلت کے مترادف ہے، تاہم حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائرکردی تھی۔عدالتِ اپیل نے حکومت کا مؤقف تسلیم کرتے ہوئے ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ فلسطین ایکشن کا طرزِ عمل کسی پْرامن احتجاجی گروپ جیسا نہیں تھا اور اس کی بعض سرگرمیاں غیر قانونی کارروائیوں کے زمرے میں آتی ہیں۔ سماعت کے دوران حکومتی وکلا نے مؤقف اختیارکیا کہ پابندی کے اظہارِ رائے پر اثرات سے متعلق ہائی کورٹ کے خدشات مبالغہ آمیز تھے، جبکہ فلسطین ایکشن کی جانب سے کہا گیا کہ اس فیصلے سے فلسطینی کاز کی حمایت کرنے والے ہزاروں افراد کی آزادی اظہار اور اجتماع کے حقوق متاثر ہوں گے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات کو تسلیم کیا کہ ایسی پابندیاں متنازعہ نوعیت کی ہو سکتی ہیں، تاہم قومی سلامتی اور قانون کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کا اقدام درست قرار دیا گیا۔اس طرح کی کارروائی کو اب جرم قراردیا گیا ہے ۔