تلنگانہ میں ووٹر لسٹوں کی نظرثانی پر شبہات ہیں: کے ٹی آر

p66

بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کہا کہ ریاست میں جاری ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی کے عمل پر بہت سے شکوک و شبہات اور الجھن پائی جارہی ہے۔ الیکشن کمیشن عوامی اور سیاسی حلقوں کے شکوک کو دور کرے۔ کے ٹی آر نے آج قومی میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ صرف تلنگانہ تک محدود نہیں ہے بلکہ اس وقت ملک بھر میں اس موضوع پر بڑے پیمانے پر بحث کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ نے بھی SIR کے اس حساس معاملے میں مداخلت کی ہے۔ اس عدالتی مداخلت کے پیش نظر الیکشن کمیشن کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ ایس آئی آر کے پورے عمل کو مکمل طور پر شفاف اور غیر جانبدارانہ طریقہ سے انجام دے تاکہ کسی بھی سیاسی جماعت یا شہری کو کوئی شکایت کا موقع نہ ملے۔ مستقبل میں انتخابی اصلاحات اور حلقوں کی از سر نو تشکیل (Delimitation) کے عمل کا تذکرہ کرتے ہوئے بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے امید ظاہر کی کہ تلنگانہ میں مستقبل میں جو بھی انتخابی تبدیلیاں ہوں وہ سب سے زیادہ شفاف مناسب اور قانون کے مطابق ہونی چاہئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تلنگانہ جیسی جمہوری اور دستوری اصولوں پر عمل پیرا ریاست میں SIR کے اس پورے عمل کو جمہوری روایتوں کے مطابق ہی پائے تکمیل تک پہنچایا جائے۔