ٹرمپ کا ایران پر حملے روکنے کا حکم ۔ ایران کے ساتھ معاہدہ کی سمت پیشرفت

2awwal_7

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے ایران پر ممکنہ حملے کو منسوخ کر دیا ہے۔مسٹر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر کہا کہ دنیا کے مستقبل کے فائدے اور ایک کامیاب و خوشحال ایران کیلئے، میں نے حملہ منسوخ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے بشرطیکہ جلد ہی کوئی معاہدہ ہو سکے۔اسرائیل بھی اس عزم میں میرے ساتھ ہے۔ اس سے پہلے کل مسٹر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے فون پر بات کی تھی۔ باخبر ذرائع کے حوالے سے ‘ایکسیوس’ نے بتایا کہ سعودی لیڈر نے ایران پر بڑے حملے کرنے کی امریکہ کی اسکیموں پر تشویش کا اظہار کیا۔ایک اور ذریعہ نے ایکسیوس کو بتایا کہ ولیعہد نے مسٹر ٹرمپ سے تناؤ کم کرنے اور ایران پر حملے سے بچنے کی اپیل کی تھی اور ایک اور اطلاع کے مطابق، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر رضامندی کی کوشش میں قطر کے نمائندوں نے کل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی، امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور عمان کے نمائندوں کے ساتھ الگ الگ بات چیت کی۔ خبروں کے مطابق، دونوں فریقین کے درمیان کچھ پیشرفت ہوئی تاہم یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ کیا اس سے تناؤ کم کرنے میں مدد ملے گی۔پریس ٹی وی نے پہلے خبر دی تھی کہ مسٹر عراقچی نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے فون پر بات کی تھی اور مغربی ایشیا کے ملکوں کو خبردار کیا تھا کہ اگر وہ ایران کے خلاف امریکی حملوں میں مدد کرتے ہیں، تو اس کیلئے وہی ذمہ دار ہونگے۔سی بی ایس نے بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر حملے کی تیاری کر رہے ہیں، جو اسی ہفتے ہو سکتا ہے۔8 جولائی کے بعد سے، امریکی فوج نے ایران پر کئی حملے کیے ہیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر تہران کے حملوں کے جواب میں کی گئی تھی۔ ایرانی فوج نے کئی مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں امریکی ٹھکانوں پر حملے کر کے جواب دیا۔ تہران نے واشنگٹن پر لڑائی روکنے کے معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کا الزام بھی لگایا۔

ٹرمپ کا ایک بار پھر یوٹرن، ایران کو سخت دھمکیاں
صدر امریکہ کی پالیسی پر نئی تنقیدی رپورٹ منظر عام پر ، ٹرمپ کیلئے ’ٹیکو‘ کی اصطلاح

واشنگٹن:2 اگست ( ایجنسیز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران سے متعلق پالیسی ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔بعض مبصرین اور ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے کئی مواقع پر ایران کے خلاف سخت بیانات اور دھمکیاں دیں، تاہم بعد میں ان پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا۔ رپورٹس کے مطابق 21 مارچ کو صدر ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہ کھولا تو ایران کے بجلی گھروں کو تباہ کر دیا جائے گا۔ بعد ازاں اس معاملے پر دی گئی ڈیڈ لائن میں پہلے پانچ دن اور پھر مزید ایک ہفتے کی توسیع کر دی گئی۔یکم اپریل کو ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر اپنا مؤقف تبدیل نہ کیا تو امریکا انتہائی سخت فوجی کارروائی کرے گا۔ تاہم اس بیان کے بعد فوری طور پر کوئی بڑا فوجی اقدام سامنے نہیں آیا۔ چند روز بعد انہوں نے سوشل میڈیا پر ایران کے خلاف ایک سخت لہجے میں پیغام بھی جاری کیا۔7 اپریل کو امریکی صدر نے ایک اور سخت بیان دیا، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا اور بعض انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بیان پر تشویش ظاہر کی۔ بعد ازاں اگلے ہی روز پاکستان کی سفارتی کوششوں کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔4 مئی کو ٹرمپ نے ‘آپریشن پروجیکٹ فریڈم‘ کا اعلان کیا، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں پھنسے بحری جہازوں کو تحفظ فراہم کرنا بتایا گیا۔ تاہم صرف دو روز بعد انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ اس کارروائی کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے تاکہ مذاکرات کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔11 جون کو بھی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت فوجی کارروائی، اہم تیل تنصیبات پر کنٹرول اور دیگر اقدامات کی دھمکی دی، لیکن چند گھنٹوں بعد انہوں نے مؤقف تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ امرایکہ ایران کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے، اس لیے سفارتی راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ان واقعات کے بعد ٹرمپ کے ناقدین نے ٹیکو کی اصطلاح استعمال کرنا شروع کی، جبکہ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ فوجی تصادم سے گریز اور مذاکرات کو موقع دینا کمزوری نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا سفارتی فیصلہ تھا۔امریکی صدر یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس اصطلاح پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ایران سے متعلق امریکی پالیسی پر بحث بدستور جاری ہے۔