مسلم شادی و طلاق ایکٹ منسوخ کرنے کا بل منظور۔ تمام شادیوں کا رجسٹرار کے پاس رجسٹریشن لازمی

Marriage-780x470

آسام اسمبلی نے جمعرات کے روز برطانوی دور کے مسلم شادی اور طلاق ایکٹ کو ختم کرنے کا بل منظور کیا جس کے نتیجہ میں شادیوں کا سرکاری رجسٹریشن لازمی ہوگیا ہے اور کسی بھی مسلم شادی کو رجسٹر کرنے میں قاضیوں کا رول ختم ہوگیا ہے۔ چیف منسٹر ہیمنت بشواشرما نے کہا کہ اب تمام مسلم شادیوں کو سب رجسٹرارس کے پاس رجسٹر کرانا ہوگا تاکہ مسلم خواتین کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ اس بل سے ریاست بھر میں بچپن کی شادیوں کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ بل پر بحث کے دوران اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے چیف منسٹر شرما نے کہا کہ ہندوستان میں سب سے زیادہ مسلم آبادی والی ریاستیں جموں وکشمیر اور کیرالا ہیں۔ مسلم شادیوں کو رجسٹر کرنے کا قانون پہلے سے موجود تھا۔ کانگریس یا بایاں بازو کی حکومت کی طرف سے کیرالا میں یہ ایکٹ لانا چاہئے تھا کیونکہ جنوبی ہند کی ریاست میں بی جے پی کبھی بھی اقتدار میں نہیں رہی۔ انہوں نے مسلم لڑکیوں کے بارے میں بھی اظہارِ تشویش کیا اور زور دے کر کہا کہ مسلم میاریج رجسٹریشن ایکٹ انہیں تحفظ فراہم کرے گا۔ چیف منسٹر نے اپوزیشن کے ایک رکن اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں اپوزیشن ارکان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس بل کی مخالفت نہ کریں۔ اس نئے ایکٹ سے نہ صرف مسلم لڑکیوں کو تحفظ حاصل ہوگا بلکہ بچپن کی شادیوں کی برائی کو ختم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ چیف منسٹر آسام نے زور دے کر کہا کہ مسلم شادیاں سپریم کورٹ کے لئے بھی باعث ِ تشویش ہیں اور اس معاملہ پر سپریم کورٹ کے کئی مشاہدات رہے ہیں۔ شرما نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن کو قاضی کی ملازمتوں سے محروم ہونے والوں کے بارے میں نہیں سوچنا چاہئے بلکہ اس ایوان کے ارکان کو ہمیشہ اپنی مسلم بیٹیوں کو محفوظ مستقبل فراہم کرنے کے بارے میں سوچنا چاہئے.