اسکولس کی کشادگی، اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کیلئے مشکل وقت

ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کے اثرات اب تعلیم پر بھی مرتب ہونے لگے ہیں۔ تلنگانہ میں اسکولوں کی کشادگی اولیائے طلبہ و سرپرستوں کے لئے مشکل و قت کی شروعات کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے کیونکہ ریاست میں اسکولوں کی کشادگی اور تعلیمی سال 2027-27 کا آغاز ہونے جا رہاہے لیکن اس کے باوجود ریاست میں خانگی اسکولوں کی فیس کو باقاعدہ بنانے کے سلسلہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے کوئی احکامات کی اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے اور خانگی اسکولوں میںدرسی کتب کی فروخت کے علاوہ مخصوص دکانوں سے یونیفارم کی خریدی پر روک لگانے کے سلسلہ میں بھی کوئی احکام جاری نہیں کئے گئے ۔ عالمی سطح پر ہونے والی مہنگائی کا اثر اب تعلیم پر بھی محسوس ہونے لگا ہے کیونکہ بچوں کو اسکول لیجانے والی سواریوں کی قیمتوں میں ایندھن کے قیمت کے اثرات جوڑے جانے لگے ہیں علاوہ ازیں بیشتر خانگی اسکولوں کی جانب سے من مانی طور پر 20تا30 فیصد اسکول فیس میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے جو کہ اولیائے طلبہ وسرپرستوں پر مہنگائی کے دور میں اضافی معاشی بوجھ تصور کیا جانے لگا ہے۔بتایاجاتاہے کہ شہر حیدرآباد وسکندرآباد میں کارپوریٹ انداز میں چلائے جانے والے اسکولوں کی فیس میں اضافہ کے ساتھ ساتھ درسی کتب کی قیمتوں میں بھی قابل لحاظ اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے ۔ مجموعی طور پر اسکولی طلبہ کی فیس اور درسی کتب کی قیمتوں میں ریکارڈ کئے جانے والے اضافہ کے بعد کہا جا رہاہے کہ ایک بچہ پر ہونے والے تعلیمی اخراجات میں 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے ۔ اولیائے طلبہ و سرپرستوں کی تنظیموں کی جانب سے اسکولوں کی کشادگی اور تعلیمی سال کے آغاز سے قبل سے ہی ریاستی حکومت اور متعلقہ عہدیداروں سے نمائندگی کرتے ہوئے اسکولوں میں موجود ابتدائی جماعتوں کی فیس کو باقاعدہ بنانے کے اقدامات کے علاوہ اسکولوں کی جانب سے خانگی ناشرین کی کتابیں اور ورک بک کے علاوہ یونیفارم کی فروخت کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن حکومت کی جانب سے ان نمائندگیوں کو نظرانداز کرنے کے علاوہ سیاسی قائدین کی جانب سے بھی اس مسئلہ کو مکمل طور پر نظرانداز کئے جانے کے نتیجہ میں اضافی اخراجات کا بوجھ برداشت کرنے کے لئے والدین اور سرپرست مجبور ہوچکے ہیں ۔ اولیائے طلبہ و سرپرستوں کی جانب سے عائد کئے جانے والے الزامات کے مطابق ریاست کے محکمہ تعلیم میں جاری بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کے نتیجہ میں طلبہ ‘ اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کی شکایات پر کوئی کاروائی نہیں کی جار ہی ہے جس کے نتیجہ میں کارپوریٹ خانگی اسکولوں کے ذمہ دار اپنی من مانی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
