بھارت: کئی وزرائے اعلیٰ کا زیادہ بچے پیدا کرنے پر زور

n63607697617295880024293a8b3d4c7797d4036c653618feaae41b85fceb9e9c4e7ffa409fcf385e1ab4a6

پہلے جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو اور اب تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے لوگوں سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس سے آبادی کے کنٹرول پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو کی تیلگو دیشم پارٹی مرکز کی بی جے پی حکومت کی ان دو اہم اتحادیوں میں سے ایک ہے، جن کی بیساکھی کے سہارے مودی حکومت قائم ہے۔ نائیڈو نے گزشتہ دنوں کہا کہ "زیادہ بچے پیدا کرنا بھی آپ کی ذمہ داری ہے۔ یہ صرف آپ اپنے لیے نہیں کریں گے، بلکہ یہ بھی قوم کے فائدے کے لیے ہے، یہ معاشرے کی خدمت ہے۔” انہوں نے مزید کہا،”ہمارے لیے ڈیموگرافی کا فائدہ صرف 2047 تک ہے۔ 2047 کے بعد، آندھرا پردیش میں نوجوانوں سے زیادہ عمر رسیدہ افراد ہوں گے۔ پہلے ہی جاپان، چین اور یورپ کے کئی ممالک میں ایسا ہو رہا ہے۔” کیا بھارت آبادی کے چیلنج سے نمٹ سکتا ہے؟ نائیڈو نے ماضی میں بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریاست کی آبادی کی اوسط عمر فی الحال 32 سال ہے، وہ 2047 تک 40 ہو جائے گی۔ نائیڈو کے بیان کے چند دنوں بعد پیر کے روز ان کی پڑوسی ریاست تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن نے بھی انہیں خیالات کا اظہار کیا۔ ایک اجتماعی شادی کی تقریب کے دوران انہوں نے ’16 بچے’ پیدا کرنے کا مشورہ دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں ممکنہ سیاسی نمائندگی کی تبدیلیوں کے مدنظر یہ ضروری محسوس ہوتا ہے۔ زیادہ بچے پیدا کرنے کے لیے قانون سازی نائیڈو کا کہنا تھا کہ ریاستی حکومت ایک ایسا قانون لانے کا منصوبہ بنا رہی ہے جس کے تحت صرف دو یا اس سے زیادہ بچے والے لوگ ہی بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے سکیں گے۔ بھارت: مسلم شرح پیدائش میں کمی، ہندو قوم پرستانہ سوچ کی نفی انہوں نے 7 اگست کے ریاستی کابینہ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "ہم نے پہلے کے قانون کو منسوخ کر دیا ہے جس میں دو سے زیادہ بچوں والے لوگوں کو بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔ ہم ایک نیا قانون لائیں گے تاکہ صرف دو سے زیادہ بچوں کے حامل افراد کو انتخاب لڑنے کا اہل بنایا جائے۔” نائیڈو نے کہا کہ کئی اضلاع میں دیہاتوں میں صرف عمر رسیدہ لوگ رہتے ہیں کیونکہ نوجوان نسل ملک کے دوسرے حصوں اور بیرون ملک منتقل ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی اوسط آبادی میں اضافہ 1950 کی دہائی میں 6.2 فیصد سے کم ہو کر 2021 میں 2.1 ہو گئی ہے اور آندھرا پردیش میں یہ تعداد صرف 1.6 فیصد پر آ گئی ہے۔ آبادی کا بڑھتا ہوا بوجھ اور پاکستانی شہروں کا مستقبل نائیڈو نے کہا، "میں ایک زمانے میں آبادی پر قابو پانے کے حق میں تھا، اور دو سے زائد بچوں کے حامل افراد کو الیکشن لڑنے سے روکنے کے لیے قانون سازی کی گئی تھی… مجھے ڈر تھا کہ بہت بڑی آبادی پانی، زمین اور دیگر وسائل کی قلت کا سبب بن جائے گی۔ آپ نے میری بات سنی اور صرف 10 سالوں میں آندھرا پردیش میں آبادی کو کم کر دیا۔ اب، مجھے ڈر ہے کہ ہماری ریاست میں نوجوان آبادی کافی نہیں ہو گی۔” تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن نے نائیڈو کے خدشات کی تائید کی اور لوگوں سے زیادہ بچے پیدا کرنے کو کہا۔ انہوں نےایک تمل کہاوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بزرگ نئے جوڑوں کو سولہ قسم کی دولت کی دعا دیتے ہیں۔ مسلمان اگر تفریق کا شکار ہیں تو ان کی آبادی کیوں بڑھی؟ بھارتی وزیر خزانہ اسٹالن نے کہا،”میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ 16 بچے پیدا ہوں…