شیوراج سنگھ کے بیٹے کارتکیہ کو دگ وجے کی نصیحت، کہا- ایسی تقریریں مت کرو، اپنے والد سے سیکھو

مرکزی وزیر زراعت اور سابق وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کے گڑھ بدھنی اسمبلی سیٹ پر ہونے والے ضمنی انتخاب کو لیکر ان کے بیٹے کارتکیہ پارٹی کی مہم میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے بی جے پی کارکنوں کے ایک جلسہ سے خطاب کیا۔ اس دوران ان کے بیان کو لے کر ریاست میں سیاست شروع ہوگئی ہے۔ کارتکیہ نے کہا کہ اگر بدھنی اسمبلی میں کانگریس امیدوار جیت گیا تو ایک بھی اینٹ نہیں لگے گی۔ انہیں نصیحت دیتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ نے کہا کہ ابھی سے ایسی تقریریں نہ کرو۔ آپ میرے بیٹے نہیں پوتےکی طرح ہو۔ اپنے والد شیوراج سنگھ چوہان سے سیکھو۔ دراصل بدھنی میں ایک انتخابی ریلی کے دوران کارتکیہ نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس الیکشن میں 20-19 ہوا اور غلطی سے بھی اگر کانگریس امیدوار جیت گیا تو ایک بھی اینٹ بدھنی کے کسی گاوں میں نہیں لگنے والی۔ کارتکیہ نے کہا، بھائی ہم اپنے پاوں پر کلہاڑی کیوں ماریں؟ اپنی پولنگ میں غلطیاں کر کے کیوں ہم اپنی عزت خراب کریں؟ ہم کو نہیں جانا کیا وزیر اعلیٰ جی کے پاس کام کروانے کے لیے، کیا ہم کو نہیں جانا مرکزی وزیر زراعت کے پاس کام کروانے؟ انہوں نے لوگوں سے ایک مرتبہ پھر بی جے پی کو ووٹ دیکر جتانے کی اپیل کی۔ کارتکیہ کے اس بیان پر دگ وجے سنگھ نے جمعہ کو سوشل میڈیا پر جوابی حملہ کیا اور کہا، ”کارتکیہ، ابھی سے ایسی تقریریں مت کرو، اپنے والد شیوراج سنگھ چوہان سے سیکھو، جمہوریت میں حکومت اور اپوزیشن دونوں مل کر ہندوستان کی تعمیر میں تعاون کرتے ہیں۔ میں 10 سال تک وزیر اعلیٰ رہا لیکن میں نے اس قسم کی زبان استعمال نہیں کی۔انہوں نے مزید کہا، ”پنچایت راج ایکٹ کے تحت، تعمیراتی کام کو انجام دینے کی ذمہ داری ایم ایل اے کی نہیں بلکہ سرپنچ کی ہے اور اس وقت آپ نہ تو سرپنچ ہیں اور نہ ہی ایم ایل اے۔ آپ میرے بیٹے نہیں بلکہ میرے پوتے کی طرح ہیں۔ میری رائے ہے، آپ مانیں یا نہ مانیں آپ جانیں، جے سیا رام۔” قابل ذکر ہے کہ شیوراج سنگھ چوہان کئی بار بدھنی اسمبلی سے ایم ایل اے رہ چکے ہیں اور گزشتہ الیکشن میں 1 لاکھ سے زیادہ ووٹوں سے جیتے تھے۔
