سپریم کورٹ نے سومناتھ مندر کے قریب بلڈوزر کی کارروائی کے خلاف دائر درخواست پر راحت دینے سے انکار کردیا

سپریم کورٹ نے سومناتھ مندر کے قریب بلڈوزر کی کارروائی کے خلاف دائر درخواست پر کوئی راحت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ سماعت کے دوران گجرات حکومت نے بتایا کہ اس نے سرکاری اراضی سے غیر قانونی تعمیرات ہٹا کر اسے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ فی الحال یہ زمین تیسرے فریق کو نہیں دی جارہی ہے۔ اس کے بعد جسٹس بی آر گاوائی کی سربراہی والی بنچ نے اسے ریکارڈ پر لیا اور کہا کہ گجرات ہائی کورٹ کو اپنے پاس زیر التواءدرخواستوں کی سماعت جاری رکھنی چاہیے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ میں جاری سماعت کی وجہ سے گجرات ہائی کورٹ میں جاری سماعت پر کوئی روک نہیں لگے گی۔ سماعت کے دوران گجرات حکومت نے الزام لگایا کہ اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ یہ تجاوزات کا معاملہ ہے۔ اس زمین کی رجسٹریشن کا دعویٰ بھی غلط ہے۔ یہ جواب ہائی کورٹ میں بھی دیا گیا ہے۔ تجاوزات ہٹانے کا کام پانچ ماہ قبل شروع کیا گیا تھا۔ سماعت کے دوران درخواست گزار نے الزام لگایا کہ سپریم کورٹ میں سماعت سے ایک رات قبل محفوظ یادگار کو بھی گرایا گیا اور توڑ پھوڑ کی گئی۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ انہیں یہ زمین 1903 میں الاٹ ہوئی تھی۔ ایک یادگار کو قدیم یادگار قرار دیا گیا ہے اور وقف کے ساتھ رجسٹرڈ ہے، اس کے باوجود اسے منہدم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ ریاستی حکومت اس معاملے پر فی الحال کوئی بلڈوزنگ کارروائی نہ کرے لیکن سپریم کورٹ نے ایسا کوئی حکم دینے سے انکار کردیا۔ 4 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے سومناتھ مندر کے قریب بلڈوزر کی کارروائی پر روک لگانے سے انکار کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اگر ہمیں لگتا ہے کہ افسران کی توہین عدالت ہے تو ہم انہیں نہ صرف جیل بھیجیں گے بلکہ وہاں کی صورتحال کو بحال کرنے کی ہدایات بھی دیں گے۔ درخواست میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے بلڈوزر کارروائی روکنے کے حکم کے باوجود بڑے پیمانے پر مسماری کا کام کیا گیا ہے۔ گر سومناتھ کے کلکٹر اور دیگر عہدیداروں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
