اسرائیلی فوج نے اسد کے فرار ہوتے ہی شام میں مچائی تباہی، گولان پہاڑی پر کیا قبضہ، بھڑک گئے مسلم ممالک

n6427895361733825869333f05d30065221505e90b4e7e0180dba1b5ce0511e2f38be581896a3defc91e71d

اسرائیل اور شام کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ 50 سال بعد اسرائیلی فوج نے شام کے اندر گھس کر گولان کی پہاڑیوں پر مکمل قبضہ کر لیا ہے۔ اسرائیلی ٹینک اب شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب نظر آ رہے ہیں۔ اس اقدام سے پوری مسلم دنیا مشتعل ہے اور سعودی عرب، قطر اور عراق جیسے ممالک نے اسرائیل کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔ اسرائیل کا یہ قدم مشرق وسطی میں بڑی کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔ مسلم ممالک اس کارروائی کے خلاف لام بند ہو رہے ہیں۔ سفارتی اور فوجی سطح پر صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ شامی فوجی اڈوں اور کیمیائی ہتھیاروں کی فیکٹریوں پر حملے ایران اور روس کے اثر والے شام میں القاعدہ سے منسلک ایک سنی باغی گروپ ایچ ٹی ایس نے اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے ۔ شام کے صدر بشار الاسد فرار ہو کر روس پہنچ گئے ہیں۔ دریں اثنا امریکی بمبار طیاروں نے اسرائیل کے ساتھ مل کر شام کے فوجی اڈوں اور کیمیائی ہتھیاروں کے کارخانوں پر زبردست فضائی حملے کرکے انہیں مکمل طور پر تباہ کردیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کو خدشہ تھا کہ یہ ہتھیار باغیوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔ اسرائیلی افواج نے بھی زمین پر کارروائی کر تے ہوئے پہلی بار 1974 کے معاہدے کے بعد شام میں داخلہ لیا ۔ انہوں نے گولان کی پہاڑیوں کے قریب شامی علاقے کے اندر 10 کلومیٹر تک قبضہ کر کے ایک بفر زون بنایا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ قدم اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے عارضی طور پر اٹھایا گیا ہے۔ اتوار کے روز، اسرائیلی فوج نے گولان کی پہاڑیوں کے علاقے میں بفر زون قائم کیا۔ اس پیش رفت نے اسد حکومت کے خاتمے اور ایران کے اثر و رسوخ کی نشاندہی کی ہے۔ اس سے اسرائیل کو ایک اسٹریٹجک فائدہ ملاہے، کیونکہ ایران اب شام کے راستے لبنان میں حزب اللہ کو ہتھیار نہیں بھیج سکے گا۔ 50 سال بعد گولان کی پہاڑیاںشام سے الگ ہو ئیں اسرائیلی فوج نے گولان کی پہاڑیوں کو 50 سال بعد شام سے الگ کر دیا۔ اس کے بعد مسلم ممالک سعودی عرب، قطر اور عراق نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے خطرناک قرار دیا ہے۔بتادیںکہ شام کے صدر بشار الاسد کے روس فرار ہونے کے بعد ترکی کے حمایت یافتہ باغیوں نے ملک کے بڑے حصوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج نے شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب اپنے ٹینک بھی تعینات کر دیے ہیں۔ وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے اسے "تزویراتی حفاظتی اقدام” قرار دیا اور گولان کی پہاڑیوں کو "ہمیشہ کے لیے اسرائیلی کنٹرول میں رہنے والا علاقہ” قرار دیا۔ مسلم ممالک کا ردعمل قطر: قطر نے اسرائیل کے اقدام کو شام کی خود مختاری پر کھلا حملہ اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ قطر نے وارننگ دی کہ اس اقدام سے خطے میں تشدد اور کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔ سعودی عرب: سعودی عرب نے اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا۔ سعودی عرب نے عالمی برادری سے گولان کی پہاڑیوں کو "عرب علاقہ” قرار دیتے ہوئے اسرائیلی اقدام کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا۔ عراق : عراق نے اسرائیل کی کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی بڑی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ شام اور اسرائیل کی تاریخ 1967 کی جنگ: اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کیا۔ 1974 کا معاہدہ: اسرائیل اور شام کے درمیان جنگ بندی ہوئی اور ایک بفر زون بنایا گیا۔ موجودہ صورتحال: بشار الاسد کی برطرفی کے بعد اسرائیل نے اس علاقے کو شام سے مکمل طور پر کاٹ کر اپنے کنٹرول میں لے لیا۔