اردو میں کیا بی ایڈ، سیلف اسٹڈی کے دم پر RPSC میں حاصل کی تیسری رینک، اب رحمت بانو کو ملا یہ بڑا عہدہ

n6526819921739963506285e03c6271fcfb0a32c6addf17b5e4f3493d0262f4333b8982e1a8da8b4665f009

کہا جاتا ہے کہ محنت کرنے والوں کی کبھی نہیں ہار نہیں ہوتی ہے اور یہ بات چورو کے اگونا محلہ کی رہنے والی رحمت بانو نے سچ ثابت کر دی ہے۔ رحمت راجستھان پبلک سروس کمیشن (RPSC) کے ذریعہ منعقدہ اسسٹنٹ پروفیسر 2023 بھرتی میں پورے راجستھان میں تیسرے نمبر پر رہیں، جبکہ انہوں نے خواتین کے زمرے میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ چار بہنوں میں تیسرے نمبر پر رحمت نے اردو میں بی ایڈ اور ایم اے مکمل کیا ہے۔ والد خادم علی خود استاد ہیں، جب کہ والدہ گھریلو خاتون ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ رحمت نے سیلف اسٹڈی کی بنیاد پر کامیابی حاصل کی۔ مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والوں کے لیے رحمت کہتی ہیں کہ اگر آپ اپنے مقصد کے لیے محنت کریں گے تو آپ کو کامیابی ضرور ملے گی۔ رحمت کہتی ہیں کہ وہ ایک سال تک روزانہ سات سے آٹھ گھنٹے مطالعہ کرتی تھیں۔ سوشل میڈیا سے دوری بنا رکھی تھی ۔ والدین خصوصاً والد صاحب نے میرا بہت ساتھ دیا۔ کوچنگ کے بغیر اور سیلف اسٹڈی کے ذریعے یہ مقام حاصل کیا۔ آج رحمت کی کامیابی پر پورے خاندان کو فخر ہے جبکہ رحمت کا کہنا تھا کہ یہ ان کی پہلی کوشش تھی اور دسویں جماعت مکمل کرنے کے بعد اسسٹنٹ پروفیسر بننے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے لیے والد کے ساتھ ساتھ خاندان کے دیگر افراد نے بھی کامیابی کے لیے ان کی بہت حوصلہ افزائی کی۔ میری پوری توجہ صرف پڑھائی پر مرکوز تھی۔ رحمت نے بتایا کہ اسے اپنا مقصد حاصل کرنے کے قابل بنانے کے لیے ان کی والدہ نے اس کو گھر کے کاموں سے بھی دور رکھا۔ وہیں والد نے کہا کہ کامیابی کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے اور وہ رحمت کی اپنے مقصد کے لیے محنت کو دیکھ کر کافی پرجوش ہیں۔