ایم ایل سی نتائج :کانگریس اعلیٰ کمان نے ریاستی قیادت سے رپورٹ طلب کی

کانگریس ہائی کمان نے تلنگانہ کے حالیہ کونسل انتخابات کے نتائج پر رپورٹ طلب کی ہے کیوں کہ بی جے پی نے گرائجویٹ زمرہ کی ایک اور ٹیچرس زمرہ کی ایک ایم ایل سی نشست پر کامیابی حاصل کرلی ہے جبکہ ٹیچرس زمرہ کی دوسری نشست پر پنچایت راج ٹیچرس یونین کے امیدوار کو کامیابی ملی۔ گرائجویٹ نشست پر بی جے پی امیدوار کی کامیابی اِس اعتبار سے بھی چونکا دینے والی رہی کیونکہ سابق میں یہ نشست کانگریس کے قبضہ میں تھی جسے بی جے پی نے چھین لیا ہے۔ کانگریس ہائی کمان نے ووٹوں کی تقسیم کی وجوہات اور امیدوار کے انتخاب کے سلسلہ میں اختیار کی گئی حکمت عملی کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے کیونکہ ابتدائی رپورٹس کے مطابق کانگریس تلنگانہ میں جاری بی سی تحریک کا بروقت اندازہ کرنے میں ناکام رہی۔ طبقاتی سروے کے ذریعہ بی سی طبقات کی آبادی کے تعین اور بی سی طبقات کیلئے 42 فیصد تحفظات کی فراہمی کے فیصلہ کے باوجود ریڈی طبقہ کے نریندر ریڈی کو امیدوار بنانے پر حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے۔ بی سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے پرسنا ہری کرشنا نے کانگریس ٹکٹ کی مساعی کی تھی لیکن اُنھیں ٹکٹ نہیں دیا گیا جس کے نتیجہ میں پرسنا ہری کرشنا نے بی ایس پی کے ٹکٹ پر مقابلہ کیا۔ کانگریس امیدوار کی شکست میں بی ایس پی امیدوار کو محصلہ ووٹ نے اہم رول ادا کیا۔ بی جے پی کو 34 فیصد ووٹ حاصل ہوئے جبکہ کانگریس امیدوار نے 31.5 فیصد ووٹ حاصل کرکے دوسرا مقام حاصل کیا۔ بی ایس پی امیدوار کو حیرت انگیز طور پر 27 فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔ کانگریس ہائی کمان کا ماننا ہے کہ اگر ریڈی طبقہ کے بجائے بی سی طبقہ کے ٹکٹ دیا جاتا تو پارٹی کی کامیابی یقینی ہوجاتی۔ بتایا جاتا ہے کہ 2 ریاستی وزراء نے نریندر ریڈی کو ٹکٹ دلانے میں اہم رول ادا کیا اور اِس کیلئے ریاستی قیادت اور اعلیٰ کمان کو کامیابی کا بھروسہ دلایا گیا تھا۔ مبصرین کے مطابق امیدوار کے انتخاب میں تاخیر اور بی سی طبقہ کو ٹکٹ نہ دیئے جانے سے بی سی رائے دہندوں نے متحدہ طور پر ووٹ بی ایس پی امیدوار کے حق میں استعمال کئے۔ کریم نگر، عادل آباد، نظام آباد اور میدک متحدہ اضلاع کے تحت نئے 15 اضلاع ہیں جن میں اسمبلی نشستوں کی تعداد 42 ہے۔ کانگریس کے ارکان اسمبلی 23 ہیں۔ اس کے علاوہ 3 وزراء اِس حلقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے متحدہ 3 اضلاع کا دورہ کرکے کانگریس کی انتخابی مہم میں حصہ لیا تھا۔ 3 وزراء اور 23 ارکان اسمبلی کے علاوہ سینئر قائدین کو بھی مہم میں جھونک دیا گیا باوجود اس کے کانگریس کو شکست ہوئی۔ نتائج کے بعد حکومت اور پارٹی دونوں کی جانب سے وجوہات کا پتہ چلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تلنگانہ کی نئی انچارج میناکشی نٹراجن جو نتیجہ کے دن حیدرآباد میں تھیں اور پارٹی کے جائزہ اجلاسوں کے سلسلہ میں شہر میں مقیم ہیں۔ اُنھوں نے خود بھی نتائج پر حیرت کا اظہار کیا۔ سابق میں وہ راجیو گاندھی پنچایت راج سنگھٹن کے تحت مذکورہ متحدہ اضلاع میں پدیاترا کرچکی ہیں لہذا وہ علاقہ کی سیاسی صورتحال سے بہتر واقف ہیں۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر ریونت ریڈی نے انتخابی مہم میں شامل قائدین سے بی سی ووٹ کی بی ایس پی امیدوار کو منتقلی کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے۔ ہری کرشنا گزشتہ تقریباً دو سال سے حلقہ میں اپنی مہم کا آغاز کرچکے تھے اور اُنھیں یقین تھا کہ کانگریس اُنھیں ٹکٹ دے گی۔ طبقاتی سروے کی تکمیل اور سماجی انصاف کے نعروں کے درمیان بی سی امیدوار کے بجائے ریڈی طبقہ کے امیدوار کو ٹکٹ دیا جانا کانگریس کیلئے نقصان دہ ثابت ہوا۔ بی جے پی اور کانگریس دونوں امیدوار ریڈی طبقہ سے تعلق رکھتے تھے جبکہ واحد بی سی امیدوار ہری کرشنا خاموش مہم کے ذریعہ 27 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ ایم ایل سی الیکشن کے نتائج کے منفی اثرات کو مجوزہ مجالس مقامی کے انتخابات پر روکنے کیلئے کانگریس نے حکمت عملی کی تیاری کا کام شروع کردیا ہے۔ شمالی تلنگانہ میں بی جے پی کا بڑھتا اثر نہ صرف کانگریس بلکہ سیکولر اور جمہوری طاقتوں کیلئے چیلنج سے کم نہیں۔
