چنچل گوڑہ جیل قیدیوں کیلئے ناکافی

پرانے شہر میں واقع چنچل گوڑہ جیل 1876 میں نہ صرف برطانوی راج کی مخالفت کرنے والوں کو دبانے کے لیے بنائی گئی بلکہ نظم و ضبط کے نام پر مجرموں کو بھی قید کرنے کے لیے قائم کیا گیا ۔ 150 سالہ قدیم یہ جیل انگریزوں کے بعد نظام نے اپنی حکمرانی پسند نہ کرنے والوں کو اسی جیل میں قید کیا ۔ اس وقت یہ جیل 70 ایکر اراضی پر تھی ۔ اصلاحات کے بعد قیدیوں کی تعداد کم ہونے پر اسے 30 ایکر پر کردیا گیا ۔ حیدرآباد ریاست کے نظام کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا ۔ جیل میں ایک ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن قیدیوں کی تعداد میں مسلسل اضافے سے گنجائش کم ہورہی ہے ۔ جیل میں روزانہ اوسطاً 40 نئے قیدی آتے ہیں ۔ آصف جاہی حکومت کے تحت مرکز کو ایک محفوظ جگہ کی ضرورت ہے ۔ سیاسی مخالفین اور مجرموں کے لیے چنچل گوڑہ جیل بنائی گئی ۔ انگریزوں اور نظام حکومت کی مخالفت کرنے والے جنگجو جن میں 1930 کے دہائی کے تلنگانہ کے کارکن بھی شامل تھے ۔ 1947 میں ملک کی آزادی کے بعد 1948 میں حیدرآباد کا انضمام ہوا جس کے بعد جیل ریاستی کنٹرول میں منتقل ہوگئی ۔
