اسرائیلی حملہ میں ایک خاندان کے 11افراد شہید

Gaza

جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیل کے حملے جاری ہیں جس نے آج ایک شہری گاڑی کو نشانہ بنایا جس میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد شہید ہوئے۔ یہ حملہ 10 اکتوبر 2025ء سے نافذ جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مرکز برائے انسانی حقوق نے ہفتہ کو اپنے بیان میں کہا کہ قابض اسرائیلی فوج کا یہ رویہ انسانی زندگیوں کی کھلی توہین ہے جو قابض طاقت کی اس پالیسی کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین اور اپنی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر روندنے پر تْلی ہوئی ہے۔بیان میں بتایا گیا کہ مرکز نے اسرائیلی افواج کی جانب سے جنگ بندی کے بعد سے اب تک 129 حملوں اور فائرنگ کے واقعات کا ریکارڈ جمع کیا ہے جن کے نتیجے میں 34 فلسطینی شہید اور 122 زخمی ہوئے ہیں۔ سب سے ہولناک حملہ جمعہ 17 اکتوبر کو مشرقی غزہ کے علاقے الزیتون میں پیش آیا جب صہیونی افواج نے ایک عام شہری گاڑی کو نشانہ بنایا جو ابو شعبان خاندان کے افراد کو لے جا رہی تھی۔گاڑی میں سوار تمام 11 افراد شہید ہوگئے جن میں 7 معصوم بچے اور 2 خواتین شامل تھیں۔یہ حملے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔غزہ کے فلسطینی اب بھی خوراک اور پانی کیلئے بے حد پریشان ہیں۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے مطالبہ کیے گئے بڑے پیمانے پر امدادی قافلے اسرائیلی رکاوٹوں کے باعث متاثر ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال ایک مکمل انسانی بحران کو جنم دے رہی ہے۔اکتوبر 2023 سے اب تک 67 ہزار 967 فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 70 ہزار 179 زخمی ہو چکے ہیں۔ حماس نے امریکہ اور ثالثوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ جنگ بندی معاہدے کا احترام کرے۔