گورنر کوٹہ کی ایم ایل سی نشستوں پر تقررات تعطل کا شکار

21last

تلنگانہ حکومت کی جانب سے گورنر کوٹہ کے تحت قانون ساز کونسل کی دو نشستوں کے لئے پیش کردہ محمد اظہرالدین اور پروفیسر کودنڈا رام کے ناموں کی گورنر جشنو دیو ورما کی جانب سے منظوری پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ سپریم کورٹ نے واضح کردیا کہ گورنر کو بلز اور فائلز کی منظوری کے سلسلہ میں کوئی ٹائم لمٹ مقرر نہیں کی جاسکتی۔ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہرالدین اور پروفیسر کودنڈا رام کو شائد مزید انتظار کرنا پڑسکتا ہے۔ تلنگانہ کابینہ نے اگست میں کونسل کی دو نشستوں کیلئے اظہرالدین اور کودنڈا رام کے ناموں کی سفارش کی تھی ۔ گورنر کی جانب سے تاحال منظوری نہیں دی گئی ۔ محمد اظہرالدین کے لئے یہ معاملہ اس لئے بھی تشویش کا باعث ہے کیونکہ انہیں اندرون 6 ماہ کسی ایک ایوان کے رکن کی حیثیت سے منتخب ہونا ضروری ہے ۔ کابینہ میں برقراری کیلئے انہیں کسی ایک ایوان کا رکن ہونا چاہئے ۔ حکومت نے رکنیت کے بغیر ہی انہیں کابینہ میں شامل کرلیا ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے پروفیسر کودنڈا رام اور جناب عامر علی خاں کی نامزدگی پر حکم التواء جاری کئے جانے کے بعد حکومت نے کودنڈا رام اور اظہرالدین کے ناموں کی سفارش کی تھی ۔ سابق گورنر ٹی سوندرا راجن نے دونوں ناموں کی منظوری نہیں دی تھی۔ کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد دونوں ناموں کی سفارش کی گئی تھی ۔ بی آر ایس کے قائدین ڈی شراون اور کے ستیہ نارائنا نے نامزدگی کو چیلنج کیا تھا اور سپریم کورٹ نے حکم التواء جاری کیا۔ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق گورنر کوٹہ کے تحت تقررات قطعی فیصلہ کے تابع رہیں گے ۔