کانگریس حکومت ریٹائر ملازمین کے 10 ہزار کروڑ روپئے باقی

بی آر ایس رکن اسمبلی ہریش راؤ نے سرکاری ملازمین کے ریٹائرمنٹ فوائد ادا نہ کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ کانگریس حکومت تمام محاذوں میں ناکام ہوگئی ہے ۔ سرکاری ملازمین کے ڈی اے بقایہ جات کے علاوہ پی آر سی کے ساتھ دیگر بقایا جات جاری نہ کرنے کی مذمت کی ۔ انہوں نے کہا کہ سبکدوش سرکاری ملازمین سنگین مسائل سے دوچار ہیں ۔ انہیں ریٹائرمنٹ فوائد جاری نہ کرنے کی وجہ سے وہ پریشان ہیں ۔ انہوں نے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے استفسار کیا کہ کیا انہیں سرکاری ملازمین ، ٹیچرس اور ریٹائرڈ ملازمین کی آنکھوں میں جو آنسو ہیں وہ نظر نہیں آرہے ہیں ۔ چیف منسٹر لاکھوں کروڑروپئے خرچ کرکے موسیٰ ندی کو ترقی دینے کا اعلان کر رہے ہیں ۔ ایک لاکھ کروڑ روپئے کے مصارف سے فورتھ سٹی کا منصوبہ ہے ۔ ہزاروں کروڑ خرچ کرکے ضروت نہ ہونے والے علاقوں میں 6 لائن سڑکیں تعمیر کی جارہی ہیں ۔ کمیشن کیلئے بڑے کنٹراکٹرس کے بلز کو گرین چینل سے منظوری دی جارہی ہے ۔ مگر ریٹائرڈ ملازمین کے فوائد جاری نہ کرکے ساری زندگی حکومت کیلئے کام کرنے والوں سے نا انصافی کی جارہی ہے ۔ ہریش راو نے کہا کہ مارچ 2024 سے ریٹائرڈ ملازمین و ٹیچرس کو سبکدوشی کے فوائد جاری نہ کرکے انہیں کئی مسائل دوچار کیا جارہا ہے ۔ خدمات کے دوران بچت کرنے والی رقم سے انہیں محروم رکھنا قابل مذمت ہے ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد آرام کرنے والے ملازمین ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور اسی غم میں کئی ریٹائرڈ ملازمین کی موت ہورہی ہے ۔ تلنگانہ حکومت ریٹائرڈ ملازمین کے 10 ہزار کروڑ روپئے کے بقایا جات جاری نہ کرتے ہوئے ان کے ساتھ ظلم و زیادتی کررہی ہے ۔
