کے سی آر کو نوٹس پر کیڈر کا احتجاج، تحریک کے دن لوٹ آئے

TOP_12

بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کہا کہ سابق چیف منسٹر کے سی آر کے خلاف ایس آئی ٹی نوٹس کے خلاف اتوار کو ریاست بھر میں بی آر ایس قائدین اور کارکنوں کا سڑکوں پر نکلنا اس بات کا ثبوت ہے ۔ عوام ایک بار پھر تحریک کے موڈ میں آرہے ہیں یہ مناظر تحریک کے دنوں کی یاد دلارہی ہے ۔ پارٹی کارکنوں نے جمہوری انداز میں اپنا احتجاج درج کررہا ہے ۔ میڈیا سے غیررسمی بات چیت کرتے ہوئے کے ٹی آر نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں حکمرانی کی ناکامی روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے ۔ میڈارم جاترا کے انتظامات میں حکومت مکمل طور پر ناکام رہی اور عوامی سلامتی کی صورتحال تشویشناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب کے سی آر نندی نگر آتے ہیں تو سرکاری طور پر 900 پولیس ملازمین تعینات کئے جاتے ہیں ۔ جبکہ غیرسرکاری طور پر تعداد اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے ۔ مگر تشویش کی بات یہ ہیکہ اسی حیدرآباد میں دن دھاڑے فائیرنگ اور لوٹ مار کے واقعات پیش آرہے ہیں ۔ کے ٹی آر نے مطالبہ کیا کہ ریاستی حکومت ڈیووس معاہدوں کے ذریعہ کی گئی سرمایہ کاری پر وائیٹ پیپر جاری کریں ۔ انہوں نے قدرتی وسائل کے بے لگام استحصال ، نلاملاں ساگر معاملے میں تلنگانہ مفادات کو لاحق خطرات اور کوئلہ اسکام پر حکومت کی خاموشی پر بھی سوالات اُٹھایئے ۔ انہوں نے کہا کہ جب سی بی آئی اور مرکزی وزیر جی کشن ری ڈی کی جانب سے محکمہ جاتی کمیٹی بنائی جاچکی ہے تو پھر تحقیقات کیوں نہیں کی جارہی ہے ۔ اگر اس معاملے میں سرجن ریڈی کا کال ڈیٹا منظر عام پر آجائے تو حقاق خود سامنے آئینگے ۔ فون ٹیاپنگ پر بھی بات کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ شروع سے جھوٹ بولے جارہے ہیں ۔ وہ ایک ایک کر کے باہر آرہے ہیں ۔ پہلے کاروباری شخصیات اور پھر فلمی ستاروں کے بیانات سامنے آیئے ۔ اب حکومت خود کہہ رہی ہیکہ کچھ بھی نہیں ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ دھرنوں اور احتجاجات کو تحقیقات کا نام دے کر توجہ ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ کے ٹی آر نے واضح کیا کہ کے سی آر نے پہلے کہہ دیا ہے کہ ان کے پاس فون ٹیاپنگ کا کوئی جواز یا اختیار نہیں تھا ۔ انہوں نے کہا کہ غیرقانونی ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ عدالتوں کو کرنا چاہئے ۔ نہ کہ کوئی فرد خود کو جج سمجھ کر فیصلے سنایئے ۔ مرکزی بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ روزگار ضمانت اسکیم ، کھاد سبسیڈی ، فوڈ سبسیڈی اور سوچھ بھارت کے فنڈز میں کٹوتی ، غریبوں اور زرعی مزدور کے مفادات کے خلاف ہے ۔