10 منحرف بی آر ایس ارکان کو جوابی حلفنامہ داخل کرنے ہائی کورٹ کی مہلت

7last

تلنگانہ ہائی کورٹ نے بی آر ایس سے انحراف کے الزامات کا سامنا کرنے والے 10 ارکان اسمبلی کو جوابی حلفنامہ داخل کرنے مزید مہلت میں اضافہ کیا ہے۔ بی آر ایس سے کانگریس میں انحراف کرنے والے ارکان اسمبلی کو اسپیکر اسمبلی پرساد کمار نے کلین چٹ دی اور اسپیکر کے فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین نے بی آر ایس کے 7 ارکان اسمبلی کی درخواست کی سماعت کرکے منحرف ارکان کو جواب داخل کرنے مہلت میں اضافہ کیا اور آئندہ سماعت 25 جون کو مقرر کی۔ 2023 اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس کے ٹکٹ پر منتخب 10 ارکان نے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ ان کے خلاف اسپیکر کو شکایت کی گئی تھی اور اسپیکر نے تحقیقات کے بعد منحرف ارکان کو کلین چٹ دے دی۔ جن ارکان کے خلاف شکایت کی گئی ان میں اے گاندھی ، پرکاش گوڑ ، ٹی وینکٹ راؤ ، کرشنا موہن ریڈی ، کے یادیا ، ڈی ناگیندر اور پی سرینواس ریڈی شامل ہیں۔ بی آر ایس کی درخواست میں اسپیکر کے فیصلہ کو کالعدم قرار دینے کی اپیل کی گئی۔ 23 اپریل 2024 کے بعد منحرف ارکان نے تنخواہ اور دیگر مراعات حاصل کی ہیں، انہیں واپس لینے کی اپیل کی گئی۔ واضح رہے کہ ہائی کورٹ نے گزشتہ سماعت کے دوران 10 ارکان اسمبلی کو نوٹس جاری کی تھی جس پر ارکان اسمبلی کے وکلاء نے 16 اپریل کو عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے جواب داخل کرنے کا وقت مانگا۔ ہائی کورٹ نے 6 مئی تک جواب داخل کرنے کی مہلت دی تھی۔ عدالت نے منحرف ارکان کو تین ہفتے اور درخواست گزاروں کو جواب داخل کرنے تین ہفتے کی مہلت دی ۔ بی آر ایس کے وکلاء نے عدالت سے کہا کہ ارکان اسمبلی کی جانب سے آئندہ سماعت کے موقع پر جواب داخل کرنے کا امکان نہیں ہے ۔ فریقین کی سماعت کے بعد چیف جسٹس نے منحرف ارکان کو مہلت دینے کا فیصلہ کیا۔