پلاسٹک کچرے کا ہندوستان میں منفرد استعمال، 3100 کیلو میٹر قومی شاہراہ کی تعمیر

ماحولیاتی آلودگی کی اہم وجوہات میں پلاسٹک کا کچرا بھی شامل ہے اور ہندوستان نے ایک منفرد تجربہ کے ذریعہ پلاسٹک کچرے کو قومی شاہراہوں کی تعمیر میں استعمال کرتے ہوئے دنیا کو نئی راہ دکھائی ہے۔ ہندوستان ہی نہیں دنیا بھر میں پلاسٹک کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے اور ماحولیاتی تحفظ کے ماہرین نے پلاسٹک کے کچرے کو انسانیت کی بقاء کے لئے خطرہ قرار دیا ہے۔ یوں تو مرکزی حکومت نے بھی پلاسٹک کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے سلسلہ میں باقاعدہ شعور بیداری مہم کا آغاز کیا ہے۔ ماہرین نے پلاسٹک کے کچرے کو ضائع کرنے کے بجائے اُسے قومی شاہراہوں کی تعمیر میں استعمال کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ 2020-21 ء اور 2024-25ء کے درمیان ہندوستان میں 3100 کیلو میٹر قومی شاہراہوں کی تعمیر میں پلاسٹک کے کچرے کا استعمال کیا گیا۔ اترپردیش اور کرناٹک پلاسٹک پر مبنی سڑکوں کی تعمیر میں ملک میں سرفہرست ہیں۔ اِس منفرد اقدام کے نتیجہ میں نہ صرف طویل مدتی انفراسٹرکچر کی تیاری میں مدد ملی ہے بلکہ پلاسٹک کے ذریعہ پھیلنے والی آلودگی پر قابو پانے کی کامیاب مساعی کی گئی۔ ہندوستان میں ماحولیاتی تحفظ اور سڑکوں کی ترقی کے لئے ماہرین نے پلاسٹک کچرے کے استعمال کے ذریعہ ایک نئی جہت دی ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام کے لئے حکومتوں نے غیر سرکاری تنظیموں سے تعاون حاصل کیا ہے اور ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کا زائد استعمال انسان میں کینسر جیسی مہلک بیماری کا خطرہ بن سکتا ہے۔ زندگی کے معمولات میں پلاسٹک کا استعمال دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے اور شعور بیداری مہمات کا اثر اُس حد تک نہیں جس انداز میں ہونا چاہئے۔
