ایران نے امریکہ کے ساتھ مصالحت کاروں کے ذریعہ بات چیت بند کردی

ایران نے امریکہ کے ساتھ مصالحت کاروں کے ذریعہ پیامات کے تبادلے اور بات چیت کا سلسلہ بند کردیا ہے ۔ ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایران نے لبنان پر حملوں کا سلسلہ جاری رہنے کے نتیجہ میں مصالحت کاروں کے ذریعہ بات چیت کا سلسلہ روک دیا ہے حالانکہ تین ماہ سے جاری جنگ بندی کی کوششوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔ کہا گیا ہے کہ اس سلسلہ میںسفارتی کوششیں جاری ہیں۔ خبر رساں ادارے نے کہا کہ ایران اور مزاحمتی محاذ نے ایک ایجنڈہ طئے کیا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز کو مکمل بند کردینے سے اتفاق کیا گیا ہے ۔ مزاحمتی محاذ میں یمن ‘ لبنان اور عراق کے شیعہ حلیف گروپس شامل ہیں۔ کہا گیا ہے کہ ایران اور اس کے حلیفوںنے باب المندب کو بھی بند کردینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اسرائیل اور اس کے حواریوں کو سزا دی جاسکے ۔ امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کیلئے کوششوں میںکبھی پیشرفت ہو رہی ہے تو کبھی اس میںرکاوٹیںپیدا ہو رہی ہیں۔ کبھی حریفوں کا موقف لچکدار ہوتا ہے تو کبھی یہ دونوں انتہائی سخت گیر موقف اختیار کرلیتے ہیں اور اس وجہ سے تاحال کوئی جنگ بندی معاہدہ ممکن نہیں ہو پایا ہے ۔ امریکہ نے کہا کہ اس نے ایرانی فوجی تنصیبات پر گذشتہ دنوں نشانہ بنایا ہے اور ایران کے پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ انہوں نے جواب میںایک امریکی ٹھکانہ کو نشانہ بنایا ہے ۔ اس طرح دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ اس دوران کویتی فضائی دفاع نے بتایا کہ اس نے یکم جون کو کچھ ڈرونس اور میزائیلوںکو فضاء میںہی روک دیا ہے ۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے کویت میںامریکی فورسیس کو نشانہ بنانے والے دو ایرانی میزائیلوں کو ہوا میں تباہ کردیا ہے ۔ کویتی فوج نے سوشیل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ جنرل اسٹاف آف آرمی یہ اطلاع دینا چاہتی ہے کہ اگر کسی نے دھماکہ کی آواز سنی ہے تو یہ دشمن کے حملوںکو ناکام بنانے ائر ڈیفنس سسٹم کی کارروائی کا نتیجہ ہے ۔ کویت کی وزارت خارجہ نے بعدا زاں ایک بیان میں کہا کہ اس طرح کے حملوں کیلئے ایران ہی پوری طرح سے ذمہ دار ہے ۔ بات چیت کا سلسلہ روک دینے اور چھوٹے موٹے حملوں کے دوران یوروپین یونین نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین کوئی بھی عارضی مفاہمت ہوتی ہے تو اس کے بعد گہرائی سے بات چیت بھی ہونی چاہئے تاکہ مستقل جنگ بندی کو یقینی بنایا جاسکے ۔ بات چیت میں ایران کے یورانیم اور دیگر اہم امور کو بھی شامل کیا جانا چاہئے ۔
