SIR مہم، خلیجی ممالک میں 15 لاکھ تلنگانہ ورکرس میں تشویش کی لہر

21last_1

الیکشن کمیشن کی جانب سے تلنگانہ میں 25 جون سے فہرست رائے دہندگان پر خصوصی نظرثانی مہم نے خلیجی ممالک میں مقیم 15 لاکھ تلنگانہ ورکرس میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ تلنگانہ ورکرس کے مسائل پر کانگریس گلف کے نمائندوں نے وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر سے ملاقات کی اور ورکرس کی تشویش سے واقف کرایا۔ الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر مہم کے تحت ووٹر میاپنگ کے لئے جو طریقہ کار طے کیا ہے اس کے ذریعہ خلیج میں برسر خدمت لاکھوں ورکرس اپنے نام شامل کرنے سے قاصر ہیں۔ خلیجی ممالک کے ورکرس کے ناموں اور ان کے رائے دہی کے حق کے تحفظ کے لئے حکومت سے اقدامات کرنے کی درخواست کی گئی۔ پونم پربھاکر نے تیقن دیا کہ حکومت کی سطح پر اس سلسلہ میں الیکشن کمیشن سے نمائندگی کرتے ہوئے کوئی حل تلاش کیا جائے گا۔ گلف کانگریس کے نمائندے ایس ستیہ نارائن، پٹیل اور تلنگانہ این آر آئی اڈوائزری کمیٹی کے وائس چیرمین ایم بھیم ریڈی نے ریاستی وزیر کو این آر آئیز کی تشویش اور ان کے مسائل سے واقف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ خلیج میں مقیم این آر آئیز کے ناموں کو فہرست رائے دہندگان میں شامل کرانے حکومت کو ضروری قدم اٹھانے چاہئے۔ اس سلسلہ میں شعور بیداری مہم کی ضرورت ظاہر کی گئی۔ ورکرس کے ساتھ آن لائن اور زوم اجلاس منعقد کرنے کی تجویز پیش کی گئی تاکہ فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت کا مرحلہ آن لائن مکمل کیا جائے۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں تلنگانہ ورکرس کے ناموں کا تحفظ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خلیجی ممالک کا دورہ کرتے ہوئے ایس آئی آر مہم کی تفصیلات سے ورکرس کو واقف کرانے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ناموں کی شمولیت کیلئے آن لائن طریقہ کار مدون کیا جس سے این آر آئیز مستفادہ کرسکتے ہیں۔ این آر آئیز کے نمائندوں نے کہا کہ ذرا سی غفلت 15 لاکھ تلنگانہ ورکرس کو ووٹ کے حق سے محروم کردے گی۔