آٹو یونینوں نے ہڑتال کے فیصلے سے دستبرداری اختیار کرلی

حیدرآباد اور تلنگانہ میں عوام کو راحت دیتے ہوئے آٹو یونینوں نے اپنی نصف شب سے شروع ہونے والی ہڑتال سے دستبرداری اختیار کرلی ہے ۔ آٹو ورکرس کی ہڑتال کا 23 اگسٹ کی نصف شب سے آعاز ہونے والا تھا تاہم ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ مسٹر پونم پربھاکر اور جوائنٹ ٹرانسپورٹ کمشنر مسٹر چندرشیکھر گوڑ کے ساتھ یونینوں کے مذاکرات کامیاب رہے ۔ ریاستی حکومت نے آٹو یونینوں کے کی اہم مطالبات پر مثبت موقف اختیار کیا ہے ۔ حکومت نے آٹو کرایوں میں اضافہ سے اتفاق کرلیا ہے ۔ اضافی کی شرح کا تعین کرکے احکام جاری کئے جائیں گے ۔ حکومت نے آٹو ورکرس کیلئے خصوصی ویلفیر بورڈ کے قیام سے بھی اتفاق کرلیا ہے ۔ یکم ستمبر کو محکمہ لیبر ‘ ٹرانسپورٹ محکمہ اور آٹو یونینوں کے نمائندوں کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوگا جس میں تفصیلات کو قطعیت دی جائے گی ۔ حکومت نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ حکومت کی مدد سے اولا اور اوبیر کی طرز پر ایک ایپ تیار کیا جائے گا تاکہ آٹو ڈرائیورس کو سہولت ہوسکے ۔ کہا گیا ہے کہ حکومت نے اولا ‘ اوبیر ‘ ریاپیڈو کی مسافر خدمات پر بھی فیصلہ کرے گی اور ان گاڑیوںکو زرد نمبر پلیٹ پر توجہ دی جائیگی ۔ حکومت سے آٹو ورکرس کو 12 ہزار روپئے کی مدد فراہم کرنے کے انتخابی وعدہ پر بھی غور کرے گی تاہم کہا گیا کہ ریاست کے معاشی موقف کو پیش نظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا ۔ اس مسئلہ کو چیف منسٹر ‘ ڈپٹی چیف منسٹر اور دیگر وزراء سے رجوع کیا جائے گا ۔پونم پربھاکر نے ہڑتال سے دستبرداری اختیار کرنے آٹو یونینوں کے فیصلے پر ان سے اظہار تشکر کیا ہے ۔
