حکومت کی ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات کو عوام تک پہنچانا ارکان اسمبلی کی ذمہ داری

چیف منسٹر ریونت ریڈی نے پارٹی ارکان اسمبلی اور کونسل کو ہدایت دی کہ حکومت کے ترقیاتی اور فلاحی اقدامات کو بہتر انداز میں عوام تک پہنچائیں اور 1000 دن کے حکومت کے کارناموں کو پیش کریں۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی آج اسمبلی کے کمیٹی ہال میں کانگریس لیجسلیچر پارٹی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اجلاس میں وزراء اور ارکان اسمبلی اور کونسل نے شرکت کی۔ حکومت کے 1000 دنوں کی تکمیل کے بعد پہلی مرتبہ سی ایل پی اجلاس طلب کیا گیا۔ اسمبلی میں بی آر ایس ارکان کی ہنگامہآرائی اور معطلی کے پس منظر میں سی ایل پی اجلاس اہمیت کا حامل ہے۔ صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ بھی اجلاس میں شریک تھے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ عوام کو حکومت کی ایک ہزار دن کی کارکردگی سے واقف کرانے کیلئے اسمبلی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس میں حصہ لینے کے بجائے اہم اپوزیشن بی آر ایس کی جانب سے سازش کی گئی تاکہ اجلاس کو ناکام بنایا جائے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بی آر ایس قائدین کو اقتدار سے محرومی کے باوجود غرور اور تکبر کے کمی نہیں آئی ہے۔ احتجاج کے دوران خاتون پولیس ملازمین کے روبرو بی آر ایس ارکان نے ٹی شرٹ اتارکر افسوسناک حرکت کی ہے۔ اسپیکر کے خلاف انتہائی نازیبا الفاظ کا استعمال کیا گیا ۔ انہوں نے کانگریس ارکان اسمبلی اور کونسل کو ہدایت دی کہ اپوزیشن کی سازش کو سختی کے ساتھ ناکام بنائیں۔ حکومت کے خلاف بی آر ایس جو بھی سازش کر رہی ہے ، اس کا مقابلہ کرنا عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے۔ چیف منسٹر نے ارکان مقننہ سے کہا کہ وہ اسمبلی اور کونسل کے اجلاس میں پابندی سے شریک ہوکر عوامی مسائل پر مباحث میں حصہ لیں۔ چیف منسٹر نے بی آر ایس سربراہ کے سی آر کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ قائد اپوزیشن کی ذمہ داری ادا کرنے کے بجائے فارم ہاؤز میں آرام کر رہے ہیں۔ بی آر ایس ارکان نے تین دن تک ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دلت طبقہ سے تعلق رکھنے والے اسپیکر کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے ارکان مقننہ سے کہا کہ عوام نے جو توقعات وابستہ کی ہیں ، ان پر پورا اترنے کی کوشش کریں اور اسمبلی کے مباحث میں حصہ لیں۔1/k
اسمبلی اور کونسل میں اپنے حلقہ جات کے عوامی مسائل کو پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے سبب سنیتا لکشما ریڈی اور سبیتا اندرا ریڈی کو سیاست میں یہ مقام حاصل ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے احاطہ میں احتجاج کے دوران کے ٹی آر اور ان کے ساتھیوں نے پولیس عہدیداروں اور ملازمین پر حملہ کیا ۔ تلنگانہ میں طبقاتی سروے ملک کیلئے رول ماڈل ثابت ہوا ہے۔ تلنگانہ کی طرز پر ملک بھر میں طبقاتی سروے کیلئے مرکز سے مطالبہ کیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ میں SIR مہم کے ذریعہ بڑی تعداد میں ناموں کو فہرست رائے دہندگان سے حذف کرنے کی سازش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی کو اپنے اپنے حلقہ جات میں رائے دہندوں کے ناموں کی فہرست میں برقراری کو یقینی بنانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی آبادی 103 کروڑ میں رائے دہندے صرف 88 کروڑ ہیں اور 15 کروڑ نام فہرست سے نکال دیئے گئے۔ انہوں نے ارکان اسمبلی سے کہا کہ وہ جاریہ ایس آئی آر مہم پر خصوصی توجہ مرکوز کریں اور حکومت کے خلاف سازش کا منہ توڑ جواب دیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس دوبارہ اقتدار حاصل کرے گی ، اس کے لئے ارکان اسمبلی کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
