دیوالی تہوار کی شاپنگ میں اتر پردیش کو نمایاں مقام

TOP_17-3

عید اور تہواروں کے موقع پر عام طور پر غیر معمولی شاپنگ دیکھی جاتی ہے۔ عید ہو یا تہوار، بھلے ہی کسی بھی مذہب کا ہو لیکن تہواروں سے قبل شاپنگ کے رجحان میں اضافہ ہوتا ہے اور تاجروں کی جانب سے ابتداء ہی سے تیاریوں کا آغاز کر دیا جاتا ہے۔2025 میں ملک کی مختلف ریاستوں میں دیوالی تہوار کے موقع پر تجارت کا ایک سروے کیا گیا۔ اتر پردیش اس معاملے میں سرفہرست رہا۔ سروے کے مطابق 2025 میں دیوالی کے موقع پر اتر پردیش میں 64 ہزار 800 کروڑ کی تجارت ہوئی ہے۔ مہاراشٹرا اگرچہ 54 ہزار کروڑ کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اتر پردیش میں عام طور پر دسہرہ اور دیوالی کا تہوار دیگر ریاستوں کے مقابلے زیادہ منایا جاتا ہے۔ آبادی کے اعتبار سے بھی وہاں ایسے طبقات بستے ہیں جو دسہرہ اور دیوالی کو بڑے پیمانے پر مناتے ہیں۔ مہاراشٹرا ملک کے تجارتی مرکز کے اعتبار سے 54 ہزار کروڑ کی تجارت کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ مہاراشٹرا کا شمار تہواروں کی تجارت کے معاملے میں ملک کی دوسری بڑی مارکٹ کے طور پر ہوا ہے۔ بہار اور مغربی بنگال میں بالترتیب 32 ہزار 400 کروڑ اور 27 ہزار کروڑ کی تجارت ہوئی ہے۔ تامل ناڈو، مدھیہ پردیش اور راجستھان میں بھی دیوالی تہوار کے موقع پر بہتر تجارت دیکھی گئی۔ تامل ناڈو میں 24 ہزار 300 کروڑ، مدھیہ پردیش میں 21 ہزار 600 کروڑ اور راجستھان میں 20 ہزار 700 کروڑ کی تجارت ہوئی ہے۔ گجرات، کرناٹک اور آندھرا پردیش نے بھی دیوالی تہوار کے کاروبار میں بہتر مظاہرہ کیا ہے۔ ان ریاستوں میں بالترتیب 18 ہزار 900 کروڑ اور 16 ہزار 200 کروڑ کی تجارت ہوئی ہے۔ 2025 میں دیوالی تہوار کی تجارت میں ریاستوں کا مظاہرہ مختلف رہا ہے۔ کیرالا میں 13 ہزار 500 کروڑ کی تجارت درج کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی ریاستیں جہاں تہوار منانے والے طبقات کی زیادہ تعداد بستی ہے وہاں عام طور پر زیادہ تجارت درج کی گئی۔ پنجاب میں 12 ہزار 600 کروڑ اور ہریانہ میں 11 ہزار 700 کروڑ کی تجارت درج کی گئی۔ دہلی میں 6 ہزار 480 کروڑ کی تجارت ہوئی ہے۔ اڑیسہ میں 7 ہزار 290 کروڑ اور جھارکھنڈ میں 9 ہزار 900 کروڑ کی تجارت ہوئی۔ آسام اور اتراکھنڈ میں 4 ہزار 700 کروڑ کی دیوالی سیل درج کی گئی۔