راہل گاندھی کو ریلیف دینے سے ہائی کورٹ کا انکار

الہ آباد ہائی کورٹ نے ساورکر کے بارے میں مبینہ توہین آمیز تبصرہ کرنے کے معاملے میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو ریلیف دینے سے انکار کر دیا ہے۔ راہل گاندھی نے ایک عرضی دائر کرتے ہوئے نچلی عدالت کے اُس حکم کو چیلنج کیا تھا جس میں اُنہیں سمن جاری کر کے جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔عدالت نے راہل گاندھی کی عرضی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے پاس سیشن کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کا اختیار ہے، اس لیے داند پروسیجر کوڈ کی دفعہ 482 کے تحت ان کی موجودہ درخواست پر سماعت نہیں کی جا سکتی۔ ویر ساورکر کے خلاف توہین آمیز تبصرہ کرنے کے معاملے میں حاضری معافی کی درخواست دائر کرنے پر کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی پر دو سو روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ مدعی نریندر پانڈے نے الزام لگایا ہے کہ راہل گاندھی نے 17 نومبر 2022 کو بھارت جوڑو یاترا کے دوران مہاراشٹر کے اَکولا میں عوامی فورم پر ویر ساورکر کے خلاف توہین آمیز تبصرہ کیا تھا۔ صرف یہی نہیں، راہل گاندھی نے ملک کے تمام آزادی کے سپاہیوں کی توہین کی ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ راہل گاندھی نے ویر ساورکر کو انگریزوں کا پنشنر اور دیگر کئی توہین آمیز باتیں کہیں۔
