حیدرآباد لوک سبھا حلقہ کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی سفارش

ملک میں لوک سبھا حلقوں کی نئی حدبندی (Delimitation) کو لے کر ایک انتہائی اہم اور سنسنی خیز رپورٹ سامنے آئی ہے ۔ وزیراعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل (PM-EAC) نے ملک بھر میں لوک سبھا حلقوں کی موجودہ تعداد 543 سے بڑھاکر 824 کرنے کی بڑی سفارش کی ہے ۔ اس رپورٹ میں سب سے نمایاں تجویز تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد کے بارے میں دی گئی ہے ۔ جہاں حیدرآباد لوک سبھا حلقہ کو تین الگ الگ حلقوں میں تقسیم کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔ اقتصادی مشاورتی کونسل نے اپنے تازہ ترین مطالعاتی مقالے (Study Paper) میں حیدرآباد لوک سبھا حلقے کی لسانی بناوٹ پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق حیدرآباد لوک سبھا حلقہ میں 10.66 لاکھ اردو بولنے والے رائے دہندے موجود ہیں جو کہ اس حلقہ کے جملہ ووٹرس کا تناسب 64 فیصد ہے ۔ حیدرآباد لوک سبھا حلقہ میں تلگو بولنے والے ووٹرس کی تعداد 28 فیصد ہے ۔ ہندی بولنے والے ووٹرس کا تناسب 5.15 فیصد ہے ۔ کونسل نے اسی لسانی تنوع آبادی کے دباؤ اور انتخابی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے حیدرآباد لوک سبھا حلقہ کو تین حلقوں میں تقسیم کرنے کی سفارش کی ہے ۔ اقتصادی مشاورتی کونسل نے ملک کے موجودہ 543 لوک سبھا حلقوں کو 824 میں تبدیل کرنے کیلئے ایک بالکل واضح اور قطعی ریاضیاتی فارمولا پیش کیا ہے ۔ ملک کے تمام لوک سبھا حلقوں کو چھیڑنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ بلکہ صرف 170 حلقوں کی تقسیم ہی کافی ہوگی ۔ ماباقی 373 لوک سبھا حلقوں کو جوں کا توں رکھنے کی سفارش کی ہے ۔ کونسل نے ملک 59 بڑے لوک سبھا کو دو حلقوں میں تقسیم کرنے کی سفارش کی ہے جس سے 118 نشستیں بنیں گی ۔ اس کے علاوہ 111 لوک سبھا حلقوں کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی سفارش کی ہے ۔ جس سے 333 نشستیں بنیں گی ۔ انہیں 170 لوک سبھا حلقوں کی تقسیم سے جملہ لوک سبھا حلقوں کی نشستیں بڑھ کر 824 تک پہنچ جائے گی ۔ اسی کیلئے شہری ایس سی ، ایس ٹی ، خواتین کی آبادی ، لسانی مساوات ، لسانی تنوع اور لوک سبھا انتخابات میں پولنگ فیصد کو بنیادی معیار بنانے کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔ رپورٹ میں دونوں تلگو ریاستوں تلنگانہ اور آندھراپردیش کے کئی بڑے لوک سبھا حلقوں کو اسی فارمولے کے تحت تقسیم کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔ تلنگانہ میں حیدرآباد کے علاوہ سکندرآباد ۔ ملکاجگری اور میدک لوک سبھا حلقوں کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز ہے ۔ کیونکہ یہاں آبادی زیادہ ہے ۔ جبکہ چیوڑلہ حلقہ لوک سبھا کو دو حلقوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔ آندھراپردیش میں راجم پیٹ ، کڑپہ ، نندیال ، کرنول ، اننت پور اور وشاکھاپٹنم کو تین حصوں میں جبکہ مچھلی پٹنم کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔ کونسل نے 2009ء سے 2024 ء تک کہ لوک سبھا انتخابات کا تجزیہ کرنے کے بعد بتایا کہ بڑے لوک سبھا حلقوں کے مقابلے چھوٹے حلقوں میں ووٹنگ کا فیصد زیادہ رہتا ہے ۔ حلقوں کی اس تقسیم سے ملک بھر میں مجموعی رائے دہی کا تناسب 2.32 فیصد کا اضافہ ہوگا ۔ یعنی 2.23 کروڑ اضافی ووٹرس اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کریں گے ۔ اس فارمولے کے تحت تلنگانہ میں ووٹنگ فیصد میں 6.55 فیصد اور آندھراپردیش میں 3.52 فیصد کا زبردست اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے ۔ واضح رہے کہ اس سے قبل حد بندی بل کے دوران مرکزی حکومت نے اشارہ دیا تھا کہ ملک میں جملہ لوک سبھا حلقوں کو بڑھاکر 815 کیا جاسکتا ہے ۔ لیکن اب وزیراعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل نے اس تعداد کو مزید بڑھاکر 824 کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔ حیدرآباد جسے سیاسی طور پر انتہائی اہم اور حساس حلقے کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی اس سفارش کے بعد اب تلنگانہ اور ملک بھر کے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑنا طئے ہے ۔
