کویتا کی ملک میں غیر موجودگی کے دوران کے ٹی آر کا بڑا فیصلہ

Pp14-1

تلنگانہ جاگرتی کی صدر ایم ایل سی کویتا کو ایک اور برا سیاسی جھٹکہ لگا ہے۔ بی آر ایس کے کارگذار صدر نے انہیں کول مائن ورکرس یونین کی اعزازی صدارت سے ہٹاکر سابق وزیر کوپلا ایشور کو اس عہدے پر فائز کردیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس فیصلے کو نہ صرف چونکا دینے والا سمجھا جارہا ہے ۔ بلکہ اس کو بہن اور بھائی کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری کی علامت بھی قرار دیا جارہا ہے ۔ پارٹی کے کول مائن ورکرس یونین کے حالیہ اجلاس میں باضابطہ طور پر کوپلا ایشور کو بلامقابلہ صدر منتخب کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدام بی آر ایس کے اندرونی اختلافات کو مزید طول دے سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں کے ٹی آر اور کویتا کے درمیان تعلقات میں تلخی کی خبریں پہلے ہی موضوع بحث بنی ہوئی ہیں اور اب اس تازہ فیصلے نے ان قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دے دی ہے۔ یہ معاملہ آنے والے دنوں میں پارٹی کیلئے بڑا سیاسی بحران بن جانے کے افواہیں گشت کر رہی ہیں۔ کیونکہ کویتا کے حامی بالخصوص تلنگانہ جاگرتی کے قائدین اس فیصلہ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ کویتا کی ملک میں غیرموجودگی کا فائدہ ا ٹھاتے ہوئے فیصلہ کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ بغیر جنرل باڈی کا اجلاس طلب کریں اس قسم کی تقرری کو ٹریڈ یونین کے اصولوں کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔ واضح ہے کہ کویتا کئی برسوں سے کول مائن ورکرس یونین کی سرگرمیوں میں فعال رہی ہیں۔ مزدوروں کے مسائل کو اُجاگر کرنے میں نمایاں رول ادا کیا ہے۔ اس پس منظرمیں ان کی اچانک برطرفی نے کارکنوں اور پارٹی حلقوں میں کئی سوالات کھڑے کردئے ہیں۔