کانگریس حکومت اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے عہد کی پابند: مہیش کمار گوڑ

1last_2

صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مہیش کمار گوڑ نے کے ٹی آر کی جانب سے کانگریس حکومت پر کی گئی تنقیدوں کی سخت مذمت کی اور کہا کہ سیاسی میدان کوئی فلمی کہانی نہیں ہے۔ کے ٹی آر عوام کو گمراہ کرنے کے لئے حکومت کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کررہے ہیں۔ آج بورہ بنڈہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ اقلیتوں کی ترقی اور بہبود کے معاملہ میں کانگریس حکومت عہد کی پابند ہے۔ ہندوستان کی خدمات انجام دینے والے سابق کرکٹر محمد اظہر الدین کو کابینہ میں شامل کرنے کی انہوں نے حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ حق بجانب ہے۔ بی آر ایس کو اس پر تنقید کرنے کا اخلاقی حق بھی نہیں ہے۔ بی آر ایس کے دور حکومت میں پہلے 5 سال تک کابینہ میں خواتین کو نمائندگی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ جوبلی ہلز میں کانگریس کا موقف کافی مستحکم ہے۔ اس سے بی آر ایس اور بی جے پی بوکھلاہٹ کا شکار ہیں کیونکہ دونوں جماعتوں کے درمیان خفیہ اتحاد ہے اور دونوں کانگریس کو شکست دینے کے لئے انتخابی میدان میں موجود ہیں۔ بی آر ایس کو دیا جانے والا ووٹ بی جے پی کے حق میں جائے گا لہذا وہ عوام بالخصوص اقلیتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ کانگریس کے حق میں ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے ریونت ریڈی حکومت کے ہاتھ مضبوط کریں۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ بی آر ایس اور بی جے پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ آپسی مفاہمت کے بعد بی جے پی نے جوبلی ہلز سے ڈمی امیدوار کو میدان میں اتارا ہے کیونکہ لوک سبھا انتخابات میں بی آر ایس پارٹی نے بی جے پی کے 8 ارکان پارلیمنٹ کو کامیاب بنانے میں اہم رول ادا کیا تھا۔ احسان کا بدلا چکانے کے لئے بی جے پی نے کمزور امیدوار کو میدان میں اتارا ہے۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے کہا کہ صدر جمہوریہ کے انتخاب سے طلاق ثلاثہ کے بل تک بی آر ایس نے بی جے پی حکومت کی مکمل تائید کی ہے۔ کے ٹی آر کی جانب سے کانگریس سے پیسے لے کر بی آر ایس کو ووٹ دینے کی اپیل کرنا جمہوریت کا قتل کرنے کے مترادف ہے۔ الکشن کمیشن اس کے خلاف سخت کارروائی کرے۔