طیارہ بردار جہازوں کی صلاحیت کے معاملہ میں امریکہ سرفہرست

عام طور پر جنگ کے موقع پر بحری راستہ سے دشمن کو نشانہ بنانے کے لئے طیارہ بردار جہازوں کے ذریعہ جنگی طیاروں کو منتقل کیا جاتا ہے۔ جنگی طیاروں کی منتقلی کے سلسلہ میں امریکہ دیگر ممالک پر سبقت حاصل کئے ہوئے ہیں۔ جنگی طیاروں کی منتقلی کے لئے امریکہ کے پاس دو ایسے طیارہ بردار جہاز موجود ہیں جو ایک لاکھ ٹن تک وزن کو بہ آسانی منتقل کرسکتے ہیں۔ دنیا کے 10 ایسے ممالک ہیں جن کے پاس بہتر صلاحیتوں کے حامل طیارہ بردار جہاز موجود ہیں ان میں ہندوستان، فرانس، برطانیہ اور چین شامل ہیں۔ جہازوں کی منتقلی کی طاقت اور گنجائش کے اعتبار سے امریکہ کے پاس زائد صلاحیت کے دو طیارہ بردار جہاز ہیں جبکہ چین کے پاس تین اور ہندوستان کے پاس دو جہاز موجود ہیں۔ چین کا طیارہ بردار جہاز 80 ہزار ٹن تک گنجائش کو بہ آسانی منتقل کرسکتا ہے۔ ہندوستان کا آئی این ایس وکراما دتیہ کی گنجائش 45400 ٹن درج کی گئی ہے جبکہ آئی این ایس وکرانت 43000 تا 45000 ٹن وزنی جنگی طیاروں کو منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دفاعی امور کے ماہرین کے مطابق طیارہ بردار جہازوں کی طاقت اور گنجائش سے ممالک کی فوجی طاقت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ میں امریکہ نے اپنے ایک طیارہ بردار جہاز کو آبنائے ہرمز کے قریب تعینات کیا تھا تاکہ ایران کی رکاوٹوں کی صورت میں بحری بیڑہ کو نشانہ بنایا جاسکے۔
