بھٹی وکرامارکا نے سنگارینی کالریز کے ٹنڈرس سے متعلق الزامات کی تردیدکی

18last_1

ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ وہ تجارت کو فروغ دینے یا پھر عہدے یا اقتدار کے لالچ میں عملی سیاست میں شریک نہیں ہوئے بلکہ تلنگانہ کے وسائل کو عوام تک پہنچانا ان کا بنیادی مقصد ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے پرجا بھون میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سنگارینی کالریز کے ٹنڈرس کے بارے میں ایک تلگو اخبار میں ان کے خلاف شائع شدہ رپورٹ پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے اثاثہ جات اور وسائل کی لوٹ کو روکنے کے لئے انہوں نے سیاست میں قدم رکھا تھا۔ انہوں نے سنگارینی کالریز کے ٹنڈرس معاملہ میں کسی بھی مداخلت یا دباؤ کی تردید کی اور کہا کہ گمراہ کن رپورٹ کے ذریعہ مفادات حاصلہ ان کا امیج متاثر کرنا چاہتے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ سنگارینی کالریز بورڈ نے ٹنڈر کے قواعد کو قطعیت دی ہے اور ریاستی وزراء کا کوئی رول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ الزامات کے منظر عام پر آتے ہی ٹنڈرس کو منسوخ کرنے کی ہدایت دی گئی۔ سنگارینی بورڈ کے ارکان نے ڈپٹی چیف منسٹر کو بتایا کہ کسی بھی ٹنڈر کے حق میں ایک بھی درخواست دائر نہیں ہوئی ہے۔ سنگارینی کالریز بورڈ نے ٹنڈرس کو منسوخ کرتے ہوئے نئے ٹنڈرس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ سابق چیف منسٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی سے ان کی قربت کے نتیجہ میں ان کے خلاف تلگو اخبار نے یہ رپورٹ شائع کی۔ یہ ناراضگی دراصل میرے خلاف نہیں بلکہ آنجہانی وائی ایس راج شیکھر ریڈی سے ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے انتباہ دیا کہ وہ عہدیداروں، وزراء اور حکومت کے خلاف مہم پر خاموش نہیں رہیں گے اور قانونی کارروائی کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی عزت نفس کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں اور انہوں نے تلنگانہ سے ناانصافیوں کا مقابلہ کرنے سیاست میں قدم رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر اور تمام وزراء تلنگانہ عوام کے مفادات کے تحفظ کیلئے کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کے بعض گوشوں میں اس طرح کی خبروں سے وہ مشتعل نہیں ہوں گے اور عوام کو حقائق سے واقف کرایا جائیگا۔ عوام کیلئے گزشتہ 40 برسوں سے میں جدوجہد کررہا ہوں۔ بھٹی نے کہا کہ دو میڈیا گھرانوں کے اختلافات کے نتیجہ میں حکومت کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔