حیدرآباد میں پانی کا سنگین بحران، ٹینکرس کی بکنگ میں ریکارڈ اضافہ

شہر حیدرآباد اور مضافاتی علاقوں میں زیر زمین پانی کی سطح میں شدید کمی کے باعث پینے کے پانی کا بحران انتہائی سنگین صورتحال اختیار کرگیا ہے۔ حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس اینڈ سیوریج بورڈ کے واٹر ٹینکرس کی مانگ میں غیر متوقع اور ریکارڈ توڑ اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجہ میں یکم جون سے شہر کے بیشتر علاقوں میں ٹینکرس کی سربراہی بُری طرح متاثر ہورہی ہے اور صارفین کو پانی حاصل کرنے کے لئے دو سے چار دن تک طویل انتظار کرنا پڑرہا ہے۔ صورتحال اس قدر سنگین ہوچکی ہے کہ حیدرآباد واٹر ورکس کے دفاتر کے باہر شہریوں کی لمبی قطاریں دیکھی جارہی ہیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ رواں ہفتے پیر سے پانی کی طلب میں اچانک شدید اضافہ دیکھا گیا ہے اور اب روزانہ اوسطاً 18,000 ٹینکرس بُک کئے جارہے ہیں۔ اس بھاری مانگ کے مقابلے حیدرآباد واٹر ورکس روزانہ 13,000 ٹینکرس ہی سپلائی کرنے میں کامیاب ہوپارہا ہے۔ جس کے باعث مجموعی بکنگ کا 25 سے 30 فیصد حصہ التواء کا شکار ہورہا ہے۔ واٹر بورڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کا بنیادی ہدف بکنگ کے 24 گھنٹوں کے اندر پانی پہونچنا ہے لیکن طلب میں بے تحاشہ اضافہ کی وجہ سے فی الحال ایسا کرنا ممکن نہیں ہوپارہا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کی 30 تاریخ تک 95 فیصد بکنگس کو 24 گھنٹوں کے اندر ہی مکمل کردیا جاتا تھا لیکن جون کے آغاز کے ساتھ ہی بحران شدید ہوگیا ہے۔ اتوار سے جمعہ کی دوپہر تک کے ریکارڈ کے مطابق شہر میں 19,742 ٹینکرس کی ڈیلیوری زیرالتواء ہے۔
