بندھوا مزدوری کے خاتمہ کیلئے سرکاری محکمہ جات میں اشتراک ضروری

انٹرنیشنل جسٹس مشن نے ویمن سیفٹی ونگ تلنگانہ پولیس کے اشتراک سے ریاستی سطح کا ورک شاپ منعقد کیا جس میں بندھوا مزدور اور دیگر انداز میں انسانوں کی غیر قانونی منتقلی کو روکنے کا جائزہ لیا گیا۔ ورک شاپ میں 200 سے زائد مندوبین نے شرکت کی جن میں سینئر سرکاری عہدیدار، پولیس عہدیدار، عدلیہ کے نمائندے، سیول سوسائٹی تنظیموں کے نمائندے اور ماہرین قانون نے شرکت کی۔ ورک شاپ میں بندھوا مزدوری اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے محکمہ جات کے درمیان بہتر تال میل کی ضرورت ظاہر کی گئی۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس بی شیودھر ریڈی آئی پی ایس اور ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس ویمن سیفٹی ونگ شریمتی چارو سنہا آئی پی ایس کے علاوہ وزیر بہبودی خواتین و اطفال ڈی انوسویا سیتکا نے شرکت کی۔ مقررین نے بندھوا مزدوری اور فحاشی کے نام پر غیر قانونی طریقہ سے انسانوں کی منتقلی کو روکنے کے لئے سخت گیر اقدامات کی ضرورت ظاہر کی۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس بی شیودھر ریڈی نے کہا کہ بندھوا مزدوری ایک سماجی جرم کے ساتھ ساتھ ایک منظم جرم ہے جہاں جھوٹے وعدوں کے ذریعہ بھولے بھالے افراد کو پھنسایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ پولیس کو اس طرح کے معاملات میں فوری تحقیقات کے ذریعہ خاطیوں کو سزا یقینی بنانی چاہئے۔ شریمتی چارو سنہا نے کہا کہ استحصال کے ان معاملات کی فوری طور پر جانچ ہونی چاہئے۔ سکریٹری بہبودی خواتین و اطفال شریمتی انیتا رام چندرن نے متاثرین کو بچانے کے بعد ان کی بازآبادکاری کے اقدامات کی سفارش کی۔ ریاستی وزیر ٹی انوسویا سیتکا نے قوانین پر سختی سے عمل آوری اور محکمہ جات کے درمیان بہتر تال میل کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ریاستوں سے منتقل کئے جانے والے بندھوا مزدوروں کی واپسی یا بازآبادکاری پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں غیر سرکاری تنظیموں اور سیلف ہیلپ گروپس کے رول کو اجاگر کیا۔ وزیر لیبر جی ویویک وینکٹ سوامی نے کہا کہ بندھوا مزدوری انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ حکومت، سیول سوسائٹی اور عوام کو مشترکہ طور پر اس لعنت کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے عوام میں شعور بیداری کی ضرورت ظاہر کی۔ ورک شاپ میں بندھوا مزدوری سے نجات پانے والے بعض متاثرین نے شرکت کی اور تفصیلات سے واقف کرایا۔
