کالیشورم کمیشن رپورٹ پر کے سی آر اور ہریش راؤ کو ہائی کورٹ سے راحت

9-copy-1

تلنگانہ ہائی کورٹ نے سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور سابق وزیر آبپاشی ہریش راؤ کو بڑی راحت دیتے ہوئے کالیشورم پر جسٹس پی سی گھوش کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ پر عمل آوری کو روک دیا ہے ۔ عدالت نے ہدایت دی کہ جسٹس پی سی گھوش کمیشن کی سفارشات کی بنیاد پر درخواست گزاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ کمیشن کی رپورٹ کے خلاف کے سی آر اور ہریش راؤ کے علاوہ سابق چیف سکریٹری ایس کے جوشی اور آئی اے ایس عہدیدار سمیتا سبھروال نے ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں۔ چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین پر مشتمل بنچ نے آج اپنا فیصلہ سنایا۔ فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ تحقیقاتی کمیشن کا قیام یکطرفہ اور غیر قانونی نہیں ہے تاہم رپورٹ کی پیشکشی میں کمیشن نے رہنمایانہ خطوط اور قواعد کی خلاف ورزی کی، لہذا کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر درخواست گزاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ جسٹس پی سی گھوش نے اپنی رپورٹ میں کالیشورم کی تعمیر میں مبینہ بے قاعدگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے مذکورہ افراد کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔ عدالت نے کمیشن کے طریقہ کار پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ درخواست گزاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ واضح رہے کہ کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد 14 اپریل 2024 کو جسٹس پی سی گھوش کمیشن قائم کیا گیا تھا ۔ کمیشن نے 31 جولائی 2025 کو 665 صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کی جس میں کے سی آر اور دوسروں کو پراجکٹ کی تکمیل میں بے قاعدگیوں کیلئے ذمہ دار قرار دیا گیا۔ ہائی کورٹ کی جانب سے کے سی آر اور ہریش راؤ کو ملی راحت پر بی آر ایس کے حلقوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے ۔ کے سی آر اور ہریش راؤ کے وکلاء نے کہا کہ ہائی کورٹ نے کمیشن کی خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔