تلنگانہ ریاست ترقی کا راستہ کھوچکی ، صورتحال تشویشناک : کے سی آر

TOP_13-19

بی آر ایس کے سربراہ و سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ریاست کی ابتر صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس کے دور حکومت میں زرعی شعبہ سمیت کئی شعبہ ملک میں سرفہرست تھے ۔ کانگریس کے دور حکومت میں تلنگانہ اراضیات پر قبضے ، مکانات کی انہدامی ، مالیاتی بدنظامی میں سرفہرست ہے ۔ انہوں نے بی آر ایس کی ریاستی کمیٹی کے سوا دیگر تمام کمیٹیوں کو تحلیل کردیا ۔ بی آر ایس کے یوم تاسیس کے موقع پر تلنگانہ بھون میں منعقدہ ریاستی عاملہ سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ کے سی آر نے ریاست کی موجودہ حالات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کئی بڑے فیصلے کئے ۔ اس موقع پر انہوں نے کانگریس حکومت کی کارکردگی اور بی جے پی قائدین کے بیانات پر کڑی نکتہ چینی کی ۔ پارٹی کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر کو نئی کمیٹیوں کی تشکیل ، رکنیت سازی اور تربیتی کلاسیس کے انعقاد کی اہم ذمہ داریاں سونپی گئی ۔ انہوں نے ہدایت دی کہ پارٹی کی رکنیت کا اندراج فوری طور پر آف لائن اور آن لائن دونوں طریقوں سے رکنیت سازی مہم چلانے پر زور دیا ۔ اسی اجلاس میں کے سی آر نے حال ہی میں پارٹی میں شامل ہونے والے جیون ریڈی کا تعارف کرایا اور انہیں پارٹی کا جنرل سکریٹری بنانے کا اعلان کیا ۔ کے سی آر نے اپنے خطاب کے دوران بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ تیجسوی سوریا کے اس بیان پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا جس میں انہوں نے تلنگانہ کی تشکیل کا موازانہ تقسیم ہند و پاک سے کیا تھا ۔ بی آر ایس کے سربراہ نے کہا کہ اس وقت پارلیمنٹ میں کانگریس اور بی جے پی کی نمائندگی کرنے والے تلنگانہ کے 16 ارکان پارلیمنٹ موجود تھے لیکن سب نے اس توہین آمیز موازانے پر خاموشی اختیار کی ۔ اگر اس وقت بی آر ایس کا ایک بھی رکن پارلیمنٹ وہاں موجود ہوتا تو وہ تیجسوی سوریا کو معافی مانگنے پر مجبور کردیتا ۔ انہوں نے کانگریس اور بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ کی خاموشی کو بزدلی سے تعبیر کیا ۔ کے سی آر نے کہا کہ تلنگانہ جس صورتحال سے گزر رہا ہے اس پر انہیں بے حد دکھ ہے ۔ زرعی شعبہ بحران کا شکار ہوگیا ہے ، کانگریس حکومت مشن بھاگیرتا اسکیم کو چلانے میں پوری ناکام ہوگئی جس سے دیہاتوں میں پینے کے پانی کا بحران بھی پیدا ہوگیا ہے ۔ سابق چیف منسٹر نے کہا کہ انہوں نے حیدرآباد کے معاملہ پر کبھی سمجھوتہ نہیںکیا ۔ تحریک کے دوران سونیا گاندھی نے 16 مرتبہ حیدرآباد کے بغیر تلنگانہ ریاست تشکیل دینے کی تجویز پیش کی جس کو انہوں نے سختی سے مسترد کردیا تھا ۔ انہوں نے 2009ء میں تلگودیشم سے اتحاد بھی اس لئے کیا تھا تاکہ چندرا بابو نائیڈو سے جئے تلنگانہ کہلوایا جائے ۔ کے سی آر نے پارٹی کارکنوں کو ہدایت دی کہ وہ عوامی مسائل پر اپنی جدوجہد تیز کریں اور 2028 میں بی آر ایس حکومت کی واپسی کیلئے متحد ہوجائے ۔