فون ٹیاپنگ بی آر ایس کا کلچر، کانگریس کو شفافیت پر یقین: مہیش کمار گوڑ

TOP_17-1

صدر تلنگانہ پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے بی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر اور سابق وزیر ٹی ہریش راؤ کی جانب سے فون کی ٹیاپنگ اور گھروں کی نگرانی کرنے کے الزامات کو مسترد کردیا۔ گاندھی بھون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ فون ٹیپ کرنا بی آر ایس قائدین کی پرانی عادات رہی ہے۔ کانگریس حکومت کو ایسے اوچھے ہتھکنڈوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ صدر پردیش کانگریس نے سنسنی خیز دعویٰ کیا کہ ماضی میں بی آر ایس حکومت میں اپوزیشن قائدین اور یہاں تک کہ فلمی اسٹارس کے فون ٹیاپ کئے گئے تھے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ہریش راؤ کو فون ٹیاپنگ کا ڈر ہے تو وہ جان لیں کہ ماضی میں خود کے سی آر نے جدید آلات کا استعمال کرکے ہریش راؤ کی جاسوسی کروائی ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس شفافیت پر یقین رکھتی ہے اور کسی کی نجی زندگی میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ اضلاع میں بی آر ایس کی حالیہ سرگرمیوں اور اجلاس پر مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ بی آر ایس اس وقت ریاست میں اپنا سیاسی وجود بچانے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کے سی آر اپنی بیٹی کویتا کی گرفتاری اور قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے مجبوراً فارم ہاؤس سے باہر نہیں نکل رہے ہیں۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ خاندان میں دولت اور اثاثہ جات کی تقسیم اندرونی اختلافات کی وجہ سے کویتا نے نئی پارٹی تشکیل دی ہے ۔ اس سے کانگریس کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ مہیش کمار گوڑ نے اس موقع پر ڈی جی پی سی وی آنند کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فون ٹیاپنگ کیس کی تحقیقات اپنے آخری مرحلہ میں ہے اور جلد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا جس سے عوام کے سامنے بی آر ایس کا اصل چہرہ بے نقاب ہوگا۔