بارش کی صورتحال سے نمٹنے میں عہدیدار ناکام، چیف منسٹر کی برہمی

Page2-16

چیف منسٹر ریونت ریڈی نے بارش اور آفات سماوی کی صورت میں ہنگامی منصوبہ کے سلسلہ میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا۔ چیف منسٹر نے مانسون کے پیش نظر ریاست کے تمام آبپاشی پراجکٹس اور ذخائر آب کی سخت نگرانی اور احتیاطی اقدامات کی ہدایت دی۔ اُنھوں نے کہاکہ پراجکٹس اور ذخائر آب کی دیکھ بھال، میٹیننس سے متعلق مینول کی گائیڈ لائنس کی بنیاد پر کی جائے۔ متعلقہ انجینئرس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ذخائر آب پر نظر رکھیں۔ چیف منسٹر نے کہاکہ آبپاشی پراجکٹس اور ذخائر آب کے چیف انجینئرس اور سپرنٹنڈنگ انجینئرس اپنے علاقوں میں دستیاب رہیں۔ اُنھوں نے انتباہ دیا کہ اعلیٰ حکام کی اجازت کے بغیر اگر کوئی انجینئر اپنا مقام چھوڑتا ہے تو اُس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اُنھوں نے پراجکٹس کی دیکھ بھال اور گیٹس کی مرمت کے لئے فوری طور پر فنڈس جاری کرنے کی ہدایت دی تاکہ مانسون کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جاسکے۔ چیف منسٹر نے محکمہ جات آبپاشی، میٹرو واٹر بورڈ اور رورل واٹر سپلائی عہدیداروں کو باہمی تال میل کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت دی۔ چیف منسٹر نے کسانوں کو یوریا کی بروقت فراہمی کے لئے رعیتو ویدیکا مراکز کے استعمال کی ہدایت دی۔ محکمہ ریونیو کے عہدیداروں کو یوریا کی تقسیم میں تعاون کرنا چاہئے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ یکم جون کو منعقدہ اجلاس میں مانسون کے حوالہ سے ضروری ہدایات جاری کی گئی تھیں لیکن 9 جون کی بارش کے دوران بعض عہدیداروں کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں رہی۔ اُنھوں نے کہاکہ حیدرآباد اور اطراف کے کیور علاقہ میں میونسپل اور پولیس کے درمیان باہمی تال میل کا فقدان پایا گیا جس کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اُنھوں نے ہدایت دی کہ پانی جمع ہونے کے مقامات کی نشاندہی کی جائے اور ٹریفک جام کے شکار علاقوں میں ٹریفک کے بہتر بہاؤ کے لئے پیشگی منصوبہ بندی کی جائے۔ اُنھوں نے کہاکہ محکمہ برقی کو صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار رہنے کی ہدایت دی اور فیلڈ سے غیر حاضر عہدیداروں کے خلاف کارروائی کا مشورہ دیا۔ اُنھوں نے کہاکہ بارش کے دوران ٹریفک کے اعلیٰ عہدیداروں سے نچلے درجہ کے عملی تک ہر کسی کو سڑکوں پر موجود رہنا چاہئے۔ اُنھوں نے انتباہ دیا کہ بارش کے دوران ٹریفک جام کی صورتحال کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ چیف منسٹر نے کہاکہ انسانی غلطیوں کے باعث مسائل پیدا ہوتے ہیں جنھیں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اُنھوں نے ٹریفک میں تمام خالی جائیدادوں کو پُر کرنے کی ہدایت دی۔ ریونت ریڈی نے کہاکہ ضرورت پڑنے پر وہ خود بھی سڑکوں پر نکل کر صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ اجلاس میں چیف سکریٹری رام کرشنا راؤ، ڈائرکٹر جنرل پولیس سی وی آنند، اسپیشل چیف سکریٹریز جیش رنجن، وکاس راج، پرنسپل سکریٹری فینانس سندیپ کمار سلطانیہ، سکریٹری آبپاشی سریدھر، سکریٹری پلاننگ گورو اپل، سکریٹری زراعت کے سریندر بابو، سکریٹری ڈیزاسٹر مینجمنٹ ہری چندنا، کمشنر جی ایچ ایم سی آر وی کرنن، کمشنر پولیس حیدرآباد وی سی سجنار، منیجنگ ڈائرکٹر واٹر ورکس اشوک ریڈی، ٹرانسکو کے منیجنگ ڈائرکٹر کرشنا بھاسکر، پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی کے منیجنگ ڈائرکٹر جتیش وی پاٹل، ڈائرکٹر جنرل فائر سروسیس وکرم سنگھ مان، کمشنر فیوچر سٹی ڈاکٹر ترون جوشی، کمشنر سائبر آباد ایم رمیش، کمشنر حیڈرا اے وی رنگناتھ، کمشنر ملکاجگیری بی سومتی اور دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔