رعیتو ڈسکام لائسنس کی درخواست مسترد کی جائے

Harish-Rao

بی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر ٹی ہریش راؤ نے تلنگانہ الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے رعیتو ڈسکام لائسنس کی دی گئی درخواست کو فوری طور پر مسترد کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں تیسری ڈسکام قائم کرنے کی اس اچانک تجویز کے پیچھے دراصل برقی کے شعبہ کی نجی کاری کرنے کی ایک گہری سیاسی سازش چھپی ہوئی ہے۔ انہوں نے کانگریس حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوام کسانوں کی تنظیموں یا عوامی نمائندوں میں سے کسی نے بھی اس نئی ڈسکام کا مطالبہ نہیں کیا تھا لیکن حکومت عوام کی رائے لئے بغیر اور اسمبلی میں اس پر کوئی بحث کرائے بغیر انتہائی جلد بازی میں یہ فیصلہ تھوپنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انڈین الیکٹرسٹی ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ 30 لاکھ کسانوں کو ان کی مرضی اور اجازت کے بغیر کسی نئی ڈسکام میں منتقل کرنا سراسر غیر قانونی ہے۔ ہریش راؤ نے اس نئی تجویز کے تکنیکی اور معاشی پہلوؤں پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ریاست کے 29 لاکھ زرعی برقی صارفین کو سنبھالنے کیلئے محض 2000 کا عملہ مختص کرنا انتہائی مضحکہ خیز اور اشتعال انگیز ہے۔ عملہ کی اس شدید کمی اور محکمہ کے درمیان کوآرڈینیشن نہ ہونے کے باعث فیلڈ لیول پر کسانوں کے ساتھ برقی کے حادثات میں زبردست اضافہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آمدنی کے کوئی ٹھوس ذرائع دکھائے بغیر اس نئی ڈسکام پر 35 ہزار کروڑ روپئے کے بھاری بقایہ جات کا بوجھ ڈالنے کی کیا بات بنتی ہے۔ انہوں نے کمیشن سے اپیل کی کہ کسانوں کے مفادات اور برقی کے شعبہ کو تباہی سے بچانے کے لئے اس لائسنس کی درخواست کو ہرگز قبول نہ کیا جائے۔